فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 434

فضائل القرآن — Page 101

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 101 وہ جسمانی تغیرات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی۔جیسے فرمایا يَأْيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِن الطيبتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا اے رسولو! پاک چیزوں میں سے کھاؤ اور مناسب حال اعمال بجالاؤ۔یعنی طیبات کے کھانے سے نیک اعمال کی توفیق عطا ہوتی ہے۔اس لئے وہ قرار دیتا ہے کہ مذہب کو ایک حد تک انسان کی غذاؤں اور اس کے کانوں اور اس کی آنکھوں اور اس کی قوت حائہ پر بھی حد بندی کرنی چاہئے تا کہ معدہ اور حواس کے ذریعہ سے دماغ اور دل پر بداثرات نہ پہنچیں اور اس کی روح مردہ نہ ہو اور اس نے اس کے متعلق دو اصول مقرر کئے ہیں۔اول ضروری اور اصولی امور اس نے خود بتا دیئے ہیں اور ہر مسئلہ کے متعلق تفصیلی احکام دیئے ہیں مگر باوجود اس کے (۲) اس نے تسلیم کیا ہے کہ بعض امور میں انسان کی بدلنے والی ضرورتیں یا مختلف ممالک کے لوگوں کے لئے بدلتے رہنے والے قوانین کی بھی ضرورت ہوگی کیونکہ زمانہ کے تغیرات کے لحاظ سے ایسی ضرورتیں پیش آسکتی ہیں جن کے متعلق اپنے طور پر قوانین بنانے پڑیں۔چنانچہ اس کے لئے وہ یہ قاعدہ مقرر فرماتا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْتَلُوا عَنْ اشْيَاء إِنْ تُبْدَلَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِن تَسْئَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزِّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَلَكُمْ عَفَا اللهُ عَنْهَا وَاللهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ ۵۴ فرمایا۔اے مومنو! تم آپ ہی آپ یہ سوال نہ کیا کرو کہ ہم فلاں کام کس طرح کریں اور فلاں کس طرح کیونکہ بعض باتیں اللہ تعالیٰ نے جان بوجھ کر اس حکمت کے ماتحت چھوڑ دی ہیں کہ اگر انہیں بیان کر دیا جائے تو وہ تمہارے لئے دائمی طور پر مقرر ہو جائیں گی حالانکہ وہ جانتا ہے کہ آئندہ ان میں تبدیلی کی ضرورت پیش آتی رہے گی۔پس دوسرا اصل قرآن کریم نے یہ بتایا کہ کامل تعلیم کے بعد بھی بعض ہدایتوں میں وقتی طور پر تغیر کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ان کو قرآن نے انسانی عقل پر چھوڑ دیا ہے۔اور فیصلہ کرنے کا یہ طریق بتادیا ہے کہ أَمْرُهُمْ شُوَرى بَینم ۵۵ یعنی مومنوں کا یہ طریق ہے کہ وہ قومی معاملات کو باہمی مشورہ سے طے کیا کرتے ہیں۔پس اسلام میں یہ نہیں کہ ہر فردا اپنی اپنی رائے پر چلے بلکہ مشورہ کرنے کے بعد جو بات طے ہو اُس پر چلنا چاہئے۔مگر باوجود ان باتوں کے چونکہ انسان پھر بھی غلطی کر سکتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کے لئے بعض غیبی سامان بھی مہیا کئے ہیں۔اور وہ یہ ہیں کہ اس