فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 434

فضائل القرآن — Page 87

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 87 اس سال جب میں کشمیر گیا تو وہاں ایک ایم۔اے مجھے ملنے کے لئے آئے۔اور کہنے لگے میں خدا کو تو نہیں مانتا لیکن اگر کوئی خدا ہے تو اس نے ہمیں دنیا میں پیدا کر کے خواہ مخواہ مصیبت میں ڈال دیا۔ہم نے کب اس سے کہا تھا کہ ہمیں پیدا کر کے دنیا میں بھیج دو؟ میں نے کہا۔اگر دنیا کی زندگی مصیبت ہے اور آپ اس مصیبت سے نکلنا چاہتے ہیں تو یہ کونسی مشکل بات ہے۔زہر کھا لو اور مرجاؤ۔کہنے لگے یہ بھی تو نہیں ہو سکتا مرنے کو دل نہیں چاہتا۔میں نے کہا۔اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ آپ دنیا کی زندگی کو اچھا سمجھتے ہیں اور صرف منہ سے اس کی برائی بیان کرتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے زمین کو انسانوں کے لئے قرار کی جگہ بنایا ہے۔ہندو کہتے ہیں۔دنیا مصیبت کی جگہ ہے مگر جب بیمار ہوں تو ڈاکٹروں کو سب سے زیادہ فیس وہی دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے منہ سے جتنا چاہو کہو کہ دنیا مصیبت کی جگہ ہے لیکن یہاں سے تم ملنا نہیں چاہتے کیونکہ خدا نے تمہارے لئے اس زمین کو قرار گاہ قرار دیا ہے۔پھر وَالسَّمَاءَ بِنَاءً آسمان بھی تمہاری حفاظت کا موجب ہے۔جو چیزیں زمین کے ذریعہ پوری نہ ہو سکتی تھیں ان کو ہم تمہارے لئے آسمان سے نازل کرتے ہیں کیونکہ آسمان بناء کا موجب ہے۔وَصَوَّرَ كُمْ پھر اس خدا نے تمہیں شکل دی۔فَأَحْسَنَ صُوَرَ كُمْ۔اور بڑی اعلیٰ درجہ کی اور مکمل قابلیتوں والی شکل بنائی۔وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطيبت اور تمہارے لئے نہایت اعلیٰ درجہ کی چیزیں پیدا کی ہیں۔اگر چیزیں خراب ہو تیں تو تمہاری قابلیتیں بھی اعلیٰ درجہ کی نہ ہوتیں۔مگر ان قابلیتوں کو خرابی سے بچانے کے لئے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے رزق طیب پیدا کیا۔فَتَبَرَكَ الله رَبُّ الْعلمين۔پس اے لوگو! یہ رب العلمین ہے۔اگر وہ رَبُّ الْعَلَمِينَ نہ ہوتا اور سورج کوئی اور پیدا کرتا اور زمین کوئی اور پیدا کرتا تو سورج اور زمین کا آپس میں کوئی تعلق نہ ہوتا۔مگر اب دیکھو سورج زمین کی حفاظت کر رہا ہے اور زمین سورج کی۔یہ سب باتیں ظاہر کر رہی ہیں کہ ایک ہی خدا ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا اور وہی رَبُّ الْعَلَمِينَ ہے۔صَوَرَ كُم میں یہ بھی بتایا ہے کہ بندہ ایس بنایا گیا ہے کہ باقی سب مخلوق پر حکومت کرتا ہے۔یہ جسمانی ثبوت ہے خدا تعالیٰ کے رَبُّ الْعَلَمِینَ ہونے کا۔