فضائل القرآن — Page 88
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ خدا تعالیٰ کے رَبُّ الْعَلَمِینَ ہونے کا روحانی ثبوت روحانی ثبوت سورۃ شعراء میں اس طرح دیا کہ بہت سے نبیوں کا ذکر کرتے ہوئے جو مختلف اقوام کی طرف آئے تھے فرمایا وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْآمِينُ۔عَلى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ بِلِسَانٍ عَرَبِي مُّبِيْنٍ وَإِنَّهُ لَفِى زُبُرِ الأولين ے یعنی یہ قرآن رب العلمین خدا کی طرف سے اُتارا گیا ہے اور اس کا روحانی ثبوت یہ ہے کہ یہ کلام سب دُنیا کو مخاطب کر کے نازل ہوا ہے۔جب کہ پہلے کلام صرف مختص القوم اور مختص الزمان تھے اور جب کہ وہ کلام صرف اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ثبوت تھے۔یہ کلام ربوبیت 88 عالمین کا ثبوت ہے۔غرض یہ قرآن کسی ایک قوم کی طرف نہیں آیا کیونکہ اسے خدا تعالیٰ کی رَبُّ الْعَلَمِینَ کی صفت کے ماتحت نازل کیا گیا ہے اور تمام دنیا اس کی مخاطب ہے۔پھر اس کلام کو روح الامین لے کر نازل ہوا ہے۔یعنی پہلے نبیوں کے کلام میں خرابیاں آگئی تھیں کیونکہ بندوں نے ان کی حفاظت نہ کی۔پس خدا تعالیٰ نے اس روح کے ذریعہ سے جو امین ہے محفوظ طور پر وہ پہلے کلام آپ پر نازل کتے ہیں اور چونکہ کلام کے پہنچانے کے لئے اس کا سمجھنا بھی ضروری ہے تا کہ پہنچانے میں کوئی نقص نہ رہ جائے اس لئے یہ کلام تیرے دل پر نازل کیا گیا ہے۔غرض بائیبل اور وید وغیرہ کتا بیں سب خراب ہو چکی تھیں مگر خدا تعالیٰ کے پاس اصلی تعلیم محفوظ تھی۔چنانچہ اس نے روح الامین کے ذریعہ اس کلام کو تیرے دل پر نازل کیا تا کہ لوگوں کا جرات کے ساتھ مقابلہ کر سکے۔یہ کلام عربی زبان میں ہے جو تمام مضامین کو کھول کر بیان کرنے والی ہے۔اور اس کے رب العلمین کی طرف سے ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ یہ کلام پہلی کتب میں بھی موجود ہے۔اس رنگ میں بھی کہ ان کے اصول اس میں پائے جاتے ہیں اور اس رنگ میں بھی کہ ان سب کو اکٹھا کر کے اس میں بیان کر دیا گیا ہے۔گویا اس میں تمام غیر مسلم اقوام کی ذہنیت کا خیال رکھا گیا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ رب العلمین کی طرف سے ہے۔اگر یہ رَبُّ الْعَلَمِينَ کی طرف سے نہ ہوتا تو یہ ساری دنیا کی فکر کیوں کرتا۔