فضائل القرآن — Page 86
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ پیدا ہوتا ہے۔مثلاً خبر دار رہنا اور ادنیٰ سے ادنی تغیر کو بھی غائب نہ ہونے دینا یہ لطیف ہستی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔یعنی ایسی ہستی جو موجودات کے ہر ذرہ سے ایک کامل اتصال رکھتی ہو۔اور ایسے اتصال کے لئے لطیف ہونا شرط ہے۔پس خبیر کی صفت لطیف کے لئے بمنزلہ جوڑے کے ہے۔اور اس کے ذریعہ سے اس کا بھی ظہور ہوتا ہے۔یا ان دونوں کا آپس میں روح اور جسم کا تعلق ہے کہ ایک نہ ہو تو دوسری صفت بھی ثابت نہیں ہوتی اور دوسری نہ ہو تو پہلی ثابت نہیں ہوتی۔اگر خَبِير کی صفت وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبصَارَ سے ثابت نہ ہوتی تو لا تُدْرِكُهُ الأَبصَارُ بھی ثابت نہ ہوتا بلکہ عدم ثابت ہوتا۔اس کے مقابلہ میں اگر لانذرِ كُهُ الأَبصَارُ ثابت نہ ہوتا یعنی اس کا لطیف ہونا تو خبیر کی صفت بھی نہیں رہ سکتی تھی کیونکہ جو وجود کامل اتصال نہیں رکھتا وہ تحب تیر بھی نہیں ہو سکتا۔غرض لطیف ہستی وہ ہوتی ہے جو بار یک در باریک اور ہر ذرہ میں موجود ہو۔اور جو ایسی لطیف ہو وہ نظر کبھی نہیں آسکتی ، ضرور ہے کہ وہ مخفی ہو۔پھر لطیف ہونا خبیر ہونے کا بھی ثبوت ہے کیونکہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ایک ہستی ہے جو لطیف ہونے کی وجہ سے ہر ذرہ سے تعلق رکھتی ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ خبیر ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی صفت لطیف اس کے خبیر ہونے پر شاہد ہے۔اور خبیر ہونے کی صفت اس کے لطیف ہونے کی شہادت دے رہی ہے۔خدا تعالیٰ کی صفت رَبِّ الْعَلَمِینَ کا مادی ثبوت ایک اور صفت خدا تعالیٰ کارب العلمین ہونا ہے اس کے روحانی اور جسمانی دو ثبوت پیش کئے گئے ہیں۔جسمانی ثبوت تو یہ دیا کہ فرمایا۔اللہ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاء بِنَاءً وَصَوَرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطيبتِ ذَلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ فَتَبرَكَ اللهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ " یعنی زمین اور آسمان اور انسان اور اس کی طاقتیں ( یعنی ترقی کی قابلیتیں جن سے وہ زمین و آسمان پر حکومت کرتا ہے اور جو رَبُّ الْعَلَمین پر جو ترقیات کا سرچشمہ ہے شاہد ہیں ) اور اغذیہ وغیرہ جو ان طاقتوں کو قائم رکھتی ہیں۔یہ سب اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے رب العلمین ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔86