فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار

by Other Authors

Page 23 of 31

فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار — Page 23

۲۴ مباہلہ اور الہی تقدیر کا ایک اور وار مولوی صاحب نے اپنی ۱۷ ستمبر ۱۹۸۹ ء والی پریس کانفرنس میں بڑی بے باکی سے یہ جھوٹ بھی بولا تھا کہ " مرزا طاہر احمد پر خدا تعالیٰ کی گرفت اور عذاب نازل ہو چکا ہے اور اس وقت۔۔۔۔خوف و ذلت کی زندگی گذار رہا ہے۔" قارئین کرام ! ہم حضرت مرزا طاہر احمد امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو شب و روز ملنے والی فتوحات اور آپ پر نازل ہونے والے انعامات متواترہ کا تذکرہ بعد میں کریں گے مگر اب یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ مولوی صاحب نے تو حضرت امام جماعت احمدیہ کے بارہ میں تعلی کرتے ہوئے یہ بے باکانہ جھوٹ بولا تھا کہ وہ خوف وذلت کی زندگی گزار رہے ہیں مگر خدا تعالٰی کی تقدیر نے ان کے ان الفاظ کو خود ان کے اپنے لئے سچ ثابت کر دکھایا اور خود ان کی اسی در از زبان سے یہ اقرار کروایا کہ ان پر خوف و ہراس طاری ہے اور ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔یہ باور کرانے کے لئے کہ واقعی وہ خوفزدہ و ہراساں ہیں انہوں نے مزید افتراء یہ باندھا کہ مرزا صاحب نے ان کے قتل کی پیشگوئی کی ہے۔حالانکہ حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ایک مرتبہ بھی ان کی موت کی پیشگوئی نہیں کی تھی۔البتہ خدا تعالیٰ کی گرفت میں آکر ذلتوں اور رسوائیوں کی بار کی پیشگوئی کی تھی۔بہر حال اپنے جھوٹ کو تقویت دینے کے لئے مولوی صاحب نے پنجاب اسمبلی میں ۲۸ فروری ۱۹۸۹ء کو اس کا واویلا کیا اور تحریک استحقاق پیش کی۔جس پر خواجہ محمد یوسف صاحب رکن اسمبلی نے کہا کہ مولانا کے مرنے سے اسلام کو خطرہ نہیں۔انہیں بلٹ پروف جیکٹ دی جائے۔" ( روزنامہ جنگ - یکم مارچ ۱۹۸۹ء ) اور سلمان تاثیر صاحب نے اسی اجلاس میں یہ پھبتی کسی کہ اہم بات یہ ہے کہ کیا یہ حقیقت ہے کہ مرزا طاہر بیگ نے تین ملین سے کم انعام مولانا کی زندگی پر مقرر کیا ہے یا نہیں ؟ اگر اس سے کم قیمت لگائی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ مولانا صاحب کی توہین ہے۔کیونکہ سلمان رشدی کی قیمت تین ملین ڈالر ہے اور مولانا