فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار

by Other Authors

Page 24 of 31

فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار — Page 24

۲۵ کی کم از کم چھ ملین ڈالر ہونی چاہئے۔" اور محمد اسلم گورداسپوری صاحب نے بھرے ایوان میں یہ چیلنج کیا کہ یہاں ہاؤس میں یہ کسی طرح ثابت نہیں کر سکتے کہ ان کو قتل کی دھمکی دی گئی ہے۔" " اور مولوی صاحب یہ ثابت کرنے سے عاجز رہے کہ انہیں قتل کی دھمکی دی گئی تھی۔خدا تعالیٰ کا اپنے مامورین کے مخالفوں سے ایسا سلوک دیکھ کر انسان حیرت زدہ ہو جاتا ہے کہ ایک طرف تو خدا تعالٰی کی طرف سے مولوی صاحب کو اپنی ذلتوں سے معمور زندگی کا خطرہ لاحق ہوا اور ان کے شب و روز خدا تعالی کی ہیبت سے خوف و ہراس کی نظر ہوئے تو دوسری طرف یہی خوف و دہشت ان کی مزید ذلتوں کا سامان بھی بن گئی۔مولوی صاحب کو یہ علم نہیں کہ مباہلہ میں معاملہ ہوتا کس کے ہاتھ میں ہے۔اور کون ہے جو بچوں کو عزتوں اور عظمتوں کی رفعتیں عطا کرتا ہے اور جھوٹوں کو ذلتوں کی پستیوں میں اتار دیتا ہے۔پس اتنی ذلتوں اور رسوائیوں کے بعد جو مولوی صاحب سے چمٹ کر رہ گئی ہیں ، صرف وہی شخص بے باکیاں دکھا سکتا ہے جو غباوت کے پرلے کنارے پر پہنچ چکا ہو۔اور یہ مولوی چنیوٹی صاحب ہی ہیں کہ اس کے باوجود کہتے ہی چلے جا رہے ہیں کہ اب کے مار ! پس جو بات انہوں نے از راه دجل حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی طرف منسوب کی تھی وہ خدا تعالیٰ نے حقیقت کے رنگ میں خود انہیں کے حق میں پوری کر دکھائی۔چنانچہ ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کی خبر روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ نومبر ۱۹۸۸ء کے صفحہ نمبر ۲ پر اس طرح شائع ہوئی کہ منظور چنیوٹی پر قاتلانہ حملہ ، بیٹا اور بھتیجا زخمی ، شہر میں فوج کا گشت" قاتلانہ حملہ کرنے والے مشیت ایزدی کے تحت ان کے اپنے مخالفین تھے اور یہ بھی خدا تعالٰی نے ان کی خواہش کے مطابق کروایا اور ان کے جھوٹ پر فعلی شہادت مہیا فرمائی۔