فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار

by Other Authors

Page 16 of 31

فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار — Page 16

14 اٹری ہے ہر اک سمت سے ”تذلیل " کی برسات مولوی منظور چنیوٹی صاحب نے خدا تعالٰی کے پاک مسیح کے خلیفہ حضرت مرزا طاہر احمد امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ بنصرہ المؤزر کی دعوت مباہلہ کو کیا قبول کیا گویا شیر کی کچھار میں اترنے کی کوشش کی۔اس کے نتیجہ میں ان پر جو تذلیل کی برسات انڈی ، اس کا نظارہ دیدنی ہے اور پھر جس طرح ہر حلقہ اور ہر طبقہ فکر نے ان کے سر پر خاک ڈالی ہے اس کی داستان عبرت انگیز ہے۔حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ بنصرہ الموزر نے ۱۰ جون ۱۹۸۸ء کو دعوتِ مباہلہ دی تھی۔ملاحظہ فرمائیں کہ ہر بیان جو ذیل میں درج کیا جائے گا وہ اس تاریخ مباہلہ یعنی ۱۰ جون ۱۹۸۸ء کے بعد کا ہے کہ جب منظور چنیوٹی صاحب نے اسے قبول کر کے اپنی ذلتوں کو دعوت دی۔اپنے دست راست عقیدت مند کی نظر میں ان کا مقام کیا ہے۔ملاحظہ ہو:- محمد یار شاہد جو منظور چنیوٹی کے دست راست تھے ، نے ان کے بارے میں بیان دیا :- " محمد یار شاہد نے کہا کہ اگر اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے تو اہم انکشافات کروں گا جس سے ان پر دہ نشینوں کے اصل کرتوتوں سے شہریوں کو آگاہی ہو گی۔۔۔۔۔محمد یار شاہد نے ہمارے نمائندہ کو بتایا کہ عنقریب ایک پریس کانفرنس میں دستاویزی ثبوت فراہم کریں گے کہ اسلام کے یہ نام لیوا اور پر وہ کیا ہیں ؟ یاد رہے کہ محمد یار شاہد مولانا منظور احمد کا قریبی عقید تمند تھا۔" ڈیلی بزنس رپورٹ فیصل آباد ۳۶ ستمبر ۱۹۸۸ء ) حلقہ مولویاں اور قریبی ساتھیوں کی نظر میں منظور چنیوٹی کا مقام قاری یا مین گوہر صاحب نے زیر عنوان ” منظور چنیوٹی نے محض چندہ بٹورنے کے لئے ختم نبوت کا لیبل لگا رکھا ہے " چنیوٹ میں جلسہ سے خطاب کیا اور کہا :- مولوی منظور احمد گھگھی چنیوٹی ان دونوں تنظیموں میں سے کسی کے کارکن یا مبلغ نہیں لیکن اس شخص نے محض چندہ بٹورنے کے لئے اپنے اوپر مبلغ ختم نبوت کا لیبل لگایا ہوا ہے۔۔۔اس پر طرہ یہ کہ اس نے بعض مسلمانوں کے خلاف فتویٰ لگا کر علماء اسلام کے