"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 29
۲۹ ادیبوں کے کلام میں دو چار فقروں کا توارد عموماً پایا جاتا ہے۔٥۰ ادیبوں کے کلام میں بطور اقتباس بھی فقرات استعمال کئے جاتے ہیں۔خود حریری کی کتاب میں بعض آیات قرآنیہ بطور اقتباس موجود ہیں۔( حریری - عربی کا مشہور انشاء پرداز اور مستند ادیب جس کی تحریر مسجع و مقفی عبارتوں پر مبنی ہے۔اس کے مجموعوں کا نام مقامات حریری ہے۔) اسی طرح اس کے کلام میں دوسرے ادباء کے چند عبارات اور اشعار بغیر تغیر و تبدیل کے موجود ہیں۔اسی طرح اس کے کلام میں بعض عبارتیں ایک اور نا بغہ روزگار ادیب ابو الفضل بدیع الترمان کی بعینہ ملتی ہیں۔معلقہ ( وہ بلند پایہ قصیدوں کا مجموعہ جو زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ میں لٹکایا گیا تھا ) کے وہ شاعروں کا ایک مصرعہ پر توارد ہے۔ایک شاعر کہتا ہے بقولون لا تهلک اسی و تجمل اور دوسرا شاعر کہتا ہے يقولون لا تھلک اسی و تجلد ایسا ہی یہودی یہ ثابت کرتے ہیں کہ انجیل کی عبارتیں طالمود میں سے لفظ بلفظ چرائی گئی ہیں۔بعض شریر اور بدذات معترضین نے قرآن شریف پر بھی یہ الزام لگایا ہے کہ اس کے مضامین توریت اور انجیل میں سے مسروقہ ہیں اور اس کی امثلہ قدیم عرب کی امثلہ ہیں۔اب کوئی علم و ادب کے آداب سے تہی شخص ہی ہو سکتا ہے جو یہ یقین کرلے کہ توارد اور اقتباسات کی وجہ سے مذکورہ بالا تحریریں یا کتب مسروقہ عبارتوں اور اشعار سے بھری ہوتی ہیں۔عظیم الشان اور فصیح و بلیغ کتاب میں توارد کی مثالیں بھی ملتی ہیں اور اقتباسات بھی۔ان چند مثالوں کو چوری قرار دینے والا یا تو فصاحت و بلاغت اور زبان دانی کی الف باء بھی نہیں جانتا یا پھر بد دیانتی سے کام لے رہا ہے۔تحریر کو اقتباسات سے آراستہ کرنا اور اس میں توارد کا در آنا ، فصاحت و بلاغت کی ایک قسم ہے جیسے تحریر میں ہیرے جواہرات سجے ہوئے ہوں۔اگر فصاحت و بلاغت کی اس قسم کو سرقہ اور