"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 30
چوری قرار دے دیا جائے تو پھر ساری دنیا کے بہترین ادباء ، شعراء اور انشاء پرداز جو فصاحت و بلاغت اور زبان دانی کے استاد مانے جاتے ہیں ، سب اس الزام کے نیچے آتے ہیں۔سرقہ کا اصل مجرم معزز قارئین ! اب خدا تعالٰی کی اس تقدیر خاص کا جلوہ ملاحظہ فرمائیں جو ہمیشہ بچوں کو عزت و عظمت کا تاج پہناتی ہے اور جھوٹوں کو ہزیمت و شکست ہی نہیں ، ذلت و ادبار اور سیاہ روئی بھی عطا کرتی ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابھی پیر صاحب والی کتاب سیف چشتیائی میں مذکور نکتہ چینیوں کا جواب لکھ رہے تھے کہ موضع میں سے میاں شہاب الدین صاحب جو مولوی محمد حسن فیضی متوفی کے دوست تھے اور اس کے ہمسایہ بھی تھے ' کا ۲۹ جولائی ۱۹۰۲ء کو موضع بھیں سے خط آپ کو ملا۔جس کی نقل من وعن قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔اس سے پیر صاحب کی سارقانہ کارروائیاں ایسی کھلتی ہیں جس طرح کوئی رنگے ہاتھوں پکڑا جاتا ہے۔میاں شہاب الدین صاحب کے خط بنام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نقل " مرسل یزدانی و مامور رحمانی حضرت اقدس جناب مرزا جی صاحب دام بر کا تکم و فیو منکم السلام علیکم و رحمہ اللہ و برکاتہ۔اما بعد آپ کا خط رجسٹری شدہ آیا۔دل غمناک کو تازہ کیا - رو کر او معلوم ہوئی۔حال یہ ہے کہ محمد حسن کا مسودہ علیحدہ تو خاکسار کو نہیں دکھایا گیا۔کیونکہ اس کے مرنے کے بعد اس کی کتابیں اور سب کاغذات جمع کر کے مقفل کئے گئے ہیں۔شمس بازغہ اور اعجاز المسیح پر جو مذکور نے نوٹ کئے تھے وہ دیکھے ہیں۔اور وہی نوٹ گولڑی ظالم نے کتابیں منگوا کر درج کر دیئے ہیں اپنی لیاقت سے کچھ نہیں لکھا۔اب محمد حسن کا والد وغیرہ میرے تو جانی دشمن بن گئے ہیں۔کتابیں تو بجائے خود ایک ورقہ