"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 28
۲۸ سورہ فاتحہ کی تفسیر فصیح و بلیغ عربی میں شائع کر دیں گے تاکہ لوگ یقین کرلیں کہ پیر جی عربی بھی جانتے ہیں اور تغیر بھی لکھ سکتے ہیں لیکن افسوس کہ جب یکم جولائی ۱۹۰۲ء کو کتاب " سیف چشتیائی“ آپ کو ملی تو وہ عربی کی بجائے اردو زبان میں تھی اور تفسیر کی بجائے ہر دو کتب اعجاز المسیح اور شمس بازغہ پر بے بنیاد اعتراضات اور بے سروپا نکتہ چینیوں پر مشتمل کتاب تھی۔چنانچہ جیسا کہ پیر صاحب کو چاہئے تھا نہ انہوں نے بالمقابل عربی تفسیر لکھ کر اپنی علمی یا معجزانہ طاقت کا ثبوت دیا اور نہ اس قدر لمبی مدت میں وہ فرض ادا کر سکے جو انہیں ادا کرنا چاہئے تھا بلکہ مقابلہ میں اپنی درماندگی کی نسبت اپنے ہاتھ سے مہر لگا گئے۔اس سے نہ صرف پیر صاحب کا تفسیر نویسی کے مقابلہ میں بجز اور عربی دانی میں نا اہل ہونا دنیا پر واضح ہو گیا بلکہ ایک بار پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حق میں الہام الہی ، منعه مانع من السماء (كه آسمان سے ایک روکنے والے نے اسے روک دیا ) کی سچائی کا زبردست نشان ظہور میں آیا اور پیر صاحب نے اس پیشگوئی کی صداقت پر بھی مہر تصدیق ثبت کر دی کہ در حقیقت انه كتاب ليس له جواب و من قام للجواب و تنمّر فسوف يرى انه تندم و تذتر - کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کا کوئی جواب نہیں اور جو اس کے جواب کے لئے کھڑا ہو گا وہ نادم ہو گا اور اس کا خاتمہ حسرتوں کے ساتھ ہو گا۔سرقہ کا چر کہ کتاب سیف چشتیائی میں پیر صاحب نے جو سب سے بڑا معرکہ مارا وہ یہ ا وہ یہ اعتراض تھا کہ دو صد سے زائد صفحات پر مشتمل کتاب اعجاز مسیح میں بعض فقرے (جو اکٹھا کرنے کی حالت میں چار سطر زالمسیح ا سے زیادہ نہیں ) مقامات حریری ، قرآن کریم اور بعض کسی اور کتاب سے مسروقہ ہیں اور بعض کسی قدر تغیر و تبدل کے ساتھ لکھے گئے ہیں اور بعض عرب کی مشہور مثالوں میں سے ہیں۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر سرقہ کا الزام تھا جو پیر صاحب نے لگایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیر صاحب کے اس الزام کا کافی اور مدلل جواب اپنی کتاب نزول المسیح میں تحریر فرمایا ہے جس کے بعض نکات اختصار کے ساتھ ذیل میں درج ہیں۔