فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 43
لا الله دو داشرف علی تھانوی اور رشید احمد گنگوہی خلیل احمد انبیٹھوی، محمد قاسم نانوتوی)۔۔۔۔۔۔واقعی ایسے تھے ، جیسا کہ انہوں نے انہیں سمجھا، تو خان صاحب پر اسے علماء دیوبند کی تکفیر قرض تھی اگر رو ان کو کافر کہتے تو وہ خود کافر ہو جاتے،۔۔۔کیونکہ جو کافر کو کافر نہ کہے وہ خود کافر ہے۔الا القلاب مصنفہ مولوی مرتھے جن چاند پوری ناظم تعلیمات و تبلیغ دیوبند مطبوعہ مجتبائی دہلی 12 دیوبندی مذہب ص ٥٣ مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کے بارے میں لکھا ہے کہ : ۱۵۳ " جو اشرف علی کو کافر کہنے میں تو تف کرے۔اُس کے گھر میں کوئی شبہ نہیں ر فتوی افریقہ ص ۱۲۳ بحوالہ کتاب بریلویت ص (۲) جناب قاسم صاحب نانوتوی کے بارے میں لکھا ہے کہ در تحذیر الناس مرتد نانوتوی کی نا پاک کتاب ہے۔“ د تجانب اہل السنہ ص ۱ بحوالہ کتاب بریلویت ص۲۷۲) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف جب کفر کے فتووں کا بازار گرم ہوا تو دیو بندیوں نے بھی اس میں بھر پور حصہ لیا تھا اسی بات کا ذکر کرتے ہوئے ایک حساب کھتےہیں کہ جب یہ کشمکش بہت بڑھ گئی تو بہت سے لوگوں نے علماء سے استصواب کیا اور فتویٰ طلب کیا۔استفتاء مرتب ہوا۔مفتیوں کے پاس بھیجا گیا اور سوال کیا گیا اس سلسلہ میں مسئلہ کی صحیح صورت حال کیا ہے۔سب سے پہلا باضابطہ فتویٰ میرا خیال ہے کہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب دیو بناری کا ہے ؟" ودار العلوم احیاء اسلام کی عظیم تحریک تالیف مولانا آکیرا در وی استاذ جامعہ اسلامیہ بنارس با تمام وحید الزماں کیرا توی دار المؤلفین دیوبندیوپی طبع اول ۱۹۹۱ء ۲) دیو بندیوں کے اول مفتی جناب محمود حسن صاحب آف دیو بندیوں سے الگ نہیں جنہیں کفر کے فتوے ملے ہیں بلکہ ان میں شامل ہیں۔لکھا ہے کہ :