فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 107
۱۰۷ نے کہا کہ ایسی بات ہے تو میں تمہیں اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔اس پر آپ واپس مکہ آگئے اور اپنے صحن خانہ میں نماز کے لئے ایک جگہ بنائی آپ وہاں نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے کفار مکہ کی عورتیں آپ کو دیکھتیں اور قرآن کریم نتیں جس کا اُن کے دلوں پر بہت اللہ ہوتا اس کو دیکھ کر کفار مکہ ابن دغتہ کے پاس گئے کہ تم نے ابو بکر نہ کو پناہ دے رکھی ہے اُس نے اپنے صحن خانہ باین مسجد بنائی ہے وہ نماز پڑھتا ہے اور قرآن پڑھتا ہے اس سے ہماری عورتوں اور بچوں کو سخت تکلیف پہنچتی ہے یا تو ابو بکرنا کو ایسا کرنے سے منع کردو یا پھر اُسے اپنی پناہ سے آزاد کر دو۔اس پر ابن دغتہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس اتنے اور اُس نے کہا کہ اے ابو بکر میں نے تجھے اس لئے بناہ نہیں دی تھی کہ تو میری قوم کو تکلیف دے یا تو تو، اس کام سے باز آجا اور یا میری پناہ مجھے واپس لوٹا دے۔اس پر حضرت ابوبکر صدیق شہ نے فرمایا کہ میں تیری پناہ تجھے واپس لوٹاتا ہوں مگر میں اس کام سے باز نہ آؤں گا۔یہ واقعات بتاتے ہیں کہ کس طرح آپ اور آپ کے اصحاب کو نماز پڑھنے مسجد بنا نے قرآن پڑھنے سے روکا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اور آپ کے اصحاب اور آپ کی جماعت کے ساتھ بھی اسی قسم کا سلوک ہوا۔آپ کے بھائیوں نے ہی آپ کے راستہ میں جو کہ مسجد کو جانے کا بھی راستہ تھا دیوار کھینچے کہ بند کر دیا اور نمازوں کے راستہ میں روکاوٹ پیدا کی۔آپ کو اور آپ کے اصحاب کو دور کے راستہ سے چل کر مسجد میں نماز ادا کر نے کیلئے جانا پڑتا تھا۔اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جماعت احمدیہ کے افراد کو لوگوں نے مساجد میں نماز پڑھنے سے روکا مسجدیں بنانے سے روکا جس زمانہ میں سے مخالفت کا بہت شور اُٹھا اور جماعت احمدیہ کے افراد کو مساجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔سے افراد جماعتہ نے اپنی