فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 106
1۔4 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جیب دعوی فرمایا اور کچھ لوگ آپ پر ایمان لے آئے تو یہ بات آپ کے رشتہ داروں کو بہت کھلنے لگی اس پر آپ کے رشتہ داروں نے ہی آپ کو اور آپ کے اصحاب اور مستورات کو اپنے خاندانی کنویں سے پانی بھرنے سے منع کر دیا جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب نے چندہ جمع کیا اور حضور کے گھر کے صحت میں ایک کنواں کھدوایا۔اس طرح آپ کے مخالفین نے آپ کا بھی پانی بند کر کے ایک اور مشابہت قائم کردی۔۱۰۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھنے سے روکا گیا۔اسی تعلق سے خدا تعا لئے قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ : الايت الذى ينهى : عبدا إذا صلى (العلق آیت ۱۱) یعنی راے مخاطب) تو اس شخص کی خبر دے جو ایک بندے کو نماز سے روکتا ہے۔بڑا مشہور واقعہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فداہ نفسی ایک مرتبہ خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے اور کفار مکہ قریب ہی ایک جگہ بیٹھے آپ کو دیکھ رہے تھے اس وقت ابو جہل نے کہا کہ کون ہے تم میں سے جو اونٹ کی او جبری محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر رکھ آئے۔اس حال میں کہ آپ سجدہ کی حالت میں تھے۔ایک بدبخت اٹھا اور اُس نے آپ کی پیٹھ پر گند سے بھری او بیڑی به کار دی وہ اس قدر وزنی تھی کہ آپ سجدہ سے سر نہ اٹھا سکتے تھے اسی دوران آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ اس طرف آئیں جو کہ چھوٹی بچی تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر سے وہ اونبڑی دھکیل کر اُتاری۔آپ نے سجدہ سے سراٹھایا گویا کہ آپ کو مخالفین نے نماز پڑھنے سے بھی روکا۔دوسری طرف آپ کے صحابہ کا یہ حال تھا کہ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق نہ کہ والوں کے ظلم سے تنگ آکر مکہ سے ہجرت کر رہے تھے تو آپ کو راستہ میں این دغنہ ملا اُس نے پوچھا کہ اے ابو بکر ان تم کدھر جار ہے ہو تو آپ نے فرمایا میری قوم مجھے رہنے نہیں دیتی اس لئے میں نکتہ چھوڑ کر جاتا ہوں۔اس پر ابن دغتہ تے