فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 108
۱۰۸ الگ مساجد بنانے کی اجازت طلب کی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمیں الگ مساجد بنانے کی ضرورت نہیں میں مسلمانوں کو سمجھاتا ہوں اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لوگوں کو یہ بات سمجھائی کہ مساجد اللہ کے گھر ہیں ان میں لوگوں کو آنے سے روکنا گناہ ہے وغیرہ۔اس پر آپ کے مخالفین نے ایک اشتہار شائع کیا وہ خود ہی مساجد اور نمازوں سے روکنے کی دلیل پیش کر رہا ہے لکھا ہے۔پس مخفی نہ رہے کہ باعث اس صلح نامہ کا یہ ہے کہ جب طائیقہ مرزائیہ امرتسریں بہت خوار و ذلیل ہوئے جمعہ و جماعات سے نکالے " گئے اندر جس مسجد میں جمع ہو کہ نمازیں پڑھتے تھے اس میں سے بے غیرتی کے ساتھ بدر کئے گئے اور جہاں قیصری باغ میں نماز جمعہ پڑھتے تھے وہاں سے حکماً روکے گئے تو نہایت تنگ ہو کر مرزا قادیانی سے اجازت مانگی کہ مسجد نئی تیار کریں تب مرزانے ان کو کہا کہ صبر کرو میں لوگوں سے صلح کرتا ہوں اگر صلح ہوگئی تو مسجد بنانے کی کچھ حاجت نہیں۔اور نیز اور بہت قسم کی ذلتیں اٹھائیں۔معاملہ دہر تاؤ مسلمانوں سے بند ہو گیا۔عورتیں منکوحہ و مخطوبه بوجہ مرزائیت کے چھینی گیئیں۔مردے ان کے لیے تجہیز و تکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں دیا ئے گئے وغیرہ وغیرہ راظہار مخادعت مسیلمہ قادیانی بجواب اشتہار مصالحت پولیس ثانی الملقب بے كشط الغشا عن ابصار أهل العمل مؤلفہ عبد الاحد خانپوری) اس پر سن اشاعت نہیں صرف لکھا ہے مطبع چودھویں صدی شہر راولپنڈی میں یا ہتمام قاضی حاجی احمد مینجر کے چھپا ) اس حوالہ کے بعد اور کوئی بات کہنے والی رہ ہی نہیں جاتی یہ بیان ہمارے مخالف کا ہے۔اور جو جو کام جماعت احمدیہ کے ساتھ مخالفین نے