فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 102
١٠٢ السنہ ۱۸۹۳ ء جلد حاصدات کے مضمون اور فتوے میں موجود ہیں: انبیاء پر دوسروں کے ایجنٹ ہونے کے الزام لگتے رہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی لوگوں نے ایسی ہی بات کی قرآن کریم میں آتا ہے۔وَقَالَ الظَّلِمِينَ إِن تسبعُونَ إِلَّا رَجُلاً مَّسْحُورًا (الفرقان آیت) یعنی۔اور ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے آدمی کے پیچھے چل رہے ہو جس کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔مسحور کے معنی ایسے شخص کے ہوتے ہیں جبکہ کھانا کھلایا جاتا ہے یعنی لوگ اُس کو لالچ دینے کے لئے امداد دیتے ہیں تا کہ وہ اُن کی ایجنٹی کرے اُن کے لئے - - کام کرے۔حضرت نیچے موعود علیہ السلام پر بھی اسی قسم کا الزام لگایا گیا کہ آپ انگریزوں کے ایجنٹ ہیں اور جماعت احمدیہ انگر نیزوں کا کاشت کردہ پودا ہے وغیرہ۔انبیاء علیہم الہ نام کے قتل کرنے کی سازشیں مخالفین ہمیشہ ہی کر تے رہے آنحضرت صلی اللہ علیہ صلی الہ علیہ وسلم کے خلاف بھی اسی قسم کی سازش رچی گئی اور آپ کو بھی قتل کرنے کے منصوبے بنائے گئے۔جیسا کہ قرآن کریم اس کی شہادت دیتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذا يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُتْتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ اَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ الله وَاللهُ خَيْرٌ الماكوينه (الانفال آیت - ۳۱) یعنی اور دانے رسول اُس وقت کو یاد کہ) جب کہ کفار تیرے متعلق تدبیر کہ رہے تھے تاکہ تجھے (ایک جگہ) محصور کر دیں یا تجھ کو قتل کر دیں ، یا تجھ کو نکال دیں اور وہ بھی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ بھی تدبیریں کر رہا تھا اور اللہ تد بیر کر نے والوں میں سب سے بہتر تدبیر کر نے والا ہے۔جو تدابیر کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے اختیار کی تھیں