فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 101
تحریر فرماتے ہیں کہ :۔دوسری نکتہ چینی یہ ہے کہ مالیخولیا یا جنون ہو جانے کی وجہ سے بیح موجود ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ یوں تو میں کسی کے مجنون کہنے یا دیوانہ نام رکھنے سے ناراض نہیں ہوسکتا بلکہ خوش ہوں کیونکہ ہمیشہ سے نا سمجھ لوگ ہر ایک نبی اور رسول کا بھی ان کے زمانہ میں یہی نام رکھتے آئے ہیں اور قدیم سے ربانی مصلحون کو قوم کی طرف سے یہی خطاب بتارہا ہے اور نیز اس وجہ سے بھی مجھے خوشی پہنچی ہے کہ آج وہ پیش گوئی پوری ہوئی جو براہین احمدیہ میں طبع ہو چکی ہے کہ مجھے مجنون بھی کہیں گے لیکن حیرت تو اس بات میں ہے کہ اس دعوئی میں کو نسے جنون کی بات پائی جاتی ہے؟ (ازالہ اوبام حصہ اول روحانی خزائن جلد ۲ ص ۱۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کفار نے فریبی اور جھوٹا ہونے کا الزام بھی لگایا جیسا کہ قر آن کریم میں لکھا ہے کہ : وعجبوا أن جاءَهُمْ مَنْذِرُ مِنْهُمْ وَقَالَ الكفرون۔هذا سحر كذاب رص آیت (۵) یعنی۔اور وہ تعجب کرتے ہیں کہ ان کے پاس انہیں کی قوم میں سے ہوشیار کرنے والا آ گیا۔اور کافر کہتے ہیں کہ یہ تو ایک فریبی (اور) جھوٹا ہے ، مولوی محمد حسین بٹالوی نے جو فتویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف دیا وہ اس کے رسالہ اشاعت السنہ میں شائع ہوا تھا۔اس میں جو الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں لکھے گئے ہیں اُس کو تحریر میں لانا بھی اچھا خیال نہیں کرتا ہوں اور کوئی بھی شریف النفس ان کو پڑھنے کی سقط نہیں رکھتا بہر حال اس میں مکا را فریبی کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں جیسے الفاظ کفارتے ہمارے آقا در مونی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق استعمال کئے تھے جیسے آپ اوپر کی آیت میں پڑھ چکے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یہ الفاظ رسالہ اشاعت