فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 59 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 59

إِذَا حَدَّثْتَ فَبَيِّنْ كَلَامَكَ مِنْ كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔{ FR 4957 }؂ اور حافظ نے کہا ہے۔فَانْتَهَى النَّاسُ … مُدْرَجٌ … مِنْ كَلَامِ الزُّهْرِيِّ بَيَّنَهُ الْـخَطِيْبُ وَاتَّفَقَ عَلَيْهِ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ وَأَبُو دَاوُد وَيَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ وَالذُّهْلِيُّ وَالْخَطَّابِيُّ وَغَيْرُهُمْ۔{ FR 4593 }؂ اور نووی نے کہا ہے هَذَا مِمَّا لَا خَلَافَ فِيْهِ بَيْنَهُمْ۔{ FR 4958 }؂ اور حدیث کا مدارابن اکیمہ یشی پرہے اور اس کو حمیدی اور ابوبکر بزار اور بیہقی نے مجہول کہا ہے۔ایسا ہی حازمی نے کہا ہے۔نووی نے کہا ہے کہ اَئمّہ نے ترمذی کی تحسین پر انکار کیا ہے اور اس حدیث کے ضعف پر اَیمہ نے اتفاق کیا ہے۔ناظرین رسالہ اس تضعیف کو یاد رکھیں اور یہ بھی جان رکھیں کہ اس حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے اور ابن حبان نے صحیح بتایا اور ابن ابی حاتم نے مقبول کہا۔تضعیف کرنے والے بہت ہیں اور تصحیح کرنے والا صرف ایک اور حسن کہنے والا ایک اور مقبول کہنے والا بھی ایک۔غرض یہ حدیث جیسے مولوی صاحب کو دلیل میں لانا چاہیے تھا ویسے نہیں۔کیا معنے غوایل جرح سے خالی نہیں۔جواب دوسرا۔اگر فَانْتَہَی النَّاسُ کو زُہری کا کلام نہ مانیں گے تو صحابی کا فہم { FN 4957 }؂ اور اُس کا یہ کہنا کہ ’’لوگ رُک گئے‘‘ زُہری کا قول ہے۔اور یہ حسن بن صباح نے مجھ پر واضح کیا ہے۔انہوں نے کہا: مبشر نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے اوزاعی سے روایت کی کہ زُہری نے کہا: پس اس بات سے مسلمان نے نصیحت حاصل کر لی۔پھر وہ جہری نمازوں میں (سورۂ فاتحہ سے زائد) نہیں پڑھتے تھے۔اور (امام) مالک نے بتایا کہ ربیعہ نے زُہری سے کہا: جب تم کوئی بات کرو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے اپنی بات کو الگ واضح کیا کرو۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الْإِمَامِ) { FN 4593 } ؂ (الفاظ) ’’فَانْتَهَى النَّاسُ‘‘ (لوگ باز آگئے) مدرج (یعنی باہر سے داخل کی ہوئی بات )ہے…… جو زُہری کے کلام میں سے ہے، خطیب (بغدادیؒ) نے اسے وضاحت سے بیان کیا ہے اور امام بخاریؒ نے اپنی (کتاب) تاریخ میں نیز ابوداوٗد، یعقوب بن سفیان، ذُھْلِیْ اور خَطَّابِی وغیرہ نے بھی اس سے اتفاق کیا ہے۔(التلخيص الحبير لابن حجر العسقلاني، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة) { FN 4958 }؂ یہ ایسی (بات) ہے جس میں اُن کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے۔