فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 58
التَّابِعُوْنَ۔{ FR 4956 } یہاں آکر تَرْکُ الْقِرَا ءَ ةِ کی احادیث کو مشہور مان لیا اور یہ خیال نہ کیا کہ تابعین کا اختلاف میرے نزدیک شہرت کا مانع ہے اور ترکِ قراء ت میں بھی تابعین کا اختلاف ہے سچ ہے۔تقلید اور حمیّت انصاف کے دشمن ہیں تابعین کا اختلاف اجماع صحابہ کی بحث میں ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔۱۲ چوتھے اعتراض کا جواب تفصیل اعتراض یہ ہے کہ ابوہریرہ سے روایت ہے۔أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيْهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ: «هَلْ قَرَأَ مَعِيْ أَحَدٌ مِّنْكُمْ آنِفًا؟»، فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ: «إِنِّيْ أَقُوْلُ مَا لِيْ أُ نَازِعُ القُرْآنَ»، قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ القِرَاءَةِ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِــيْمَا جَهَرَ فِيْهِ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔{ FR 4592 } روایت کیا اس کو ابوداؤد اور نسائی اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن ہے اور بیان کیا اس حدیث کو مالک نے مؤطا میں اور شافعی اور احمد اور ابن ماجہ اور ابن حباّن نے اور محمد بن حسن نے۔اس کا (جواب پہلا) بخاری نے جزء القراءة میں فرمایا ہے۔وَقَوْلُهٗ فَانْتَهَى النَّاسُ مِنْ كَلَامِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ بَيَّنَهٗ لِي الْحَسَنُ بْنُ صَبَاحٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَالِكَ فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَؤُوْنَ فِــيْمَا جُهِرَ۔وَقَالَ مَالِكٌ: قَالَ رَبِيعَةُ لِلزُّهْرِيِّ: { FN 4956 } جسے تابعین نے اختیار کیا ہو۔(البناية شرح الهداية للعینی، کتاب الصلاۃ، باب فی صفة الصلاة، سنن الصلاة، الواجب من القراءة في الصلاة) { FN 4592 } رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک ایسی نماز سے جس میں آپؐ نے قراءت بالجہر کی، فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ ساتھ پڑھا ہے؟ ایک شخص نے عرض کیا: جی ہاں یارسول اللہ۔آپؐ نے فرمایا: میں (دل میں) کہہ رہا تھا ، مجھے کیا ہوا ہے کہ قرآن مجھ سے چھینا جارہا ہے۔(حضرت ابوہریرہؓ نے) کہا: پھر اُن (نمازوں) میں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قراءت بالجہر کرتے تھے، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ پڑھنے سے رُک گئے۔