فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 60
کہیں گے اور فہم ِصحابی مرفوع کے مقابلہ میں حجت نہیں بلکہ حجت ہی نہیں۔جواب تیسرا۔اس حدیث سے اگر حدیث کو مان لیں منازعت کی ممانعت نکلتی ہے اور وہ محل نزاع سے ہی خارج ہے۔ہم نے مانا کہ منازعت ممنوع ہے۔بھلا فرمائیے آہستہ فاتحہ پڑھ لینا منازعت میں کہاں داخل ہے۔مقتدی کے جہر پڑھنے میں منازعت ہوتی ہے۔آہستہ پڑھنے میں تو منازعت مفقود ہے۔ہمارے ایک صوفی مشرب مولوی صاحب کے رشید شاگرد نے اس مقام پر ذکر کیا کہ جس وقت جناب رسول اللہ صلعم نے مَالِیْ اُنَازِعُ { FR 4959 } صحابہ کو فرمایا تھا۔اس وقت انہوں نے جہراً قراءت نہیں پڑھی تھی بلکہ آہستہ پڑھتے تھے اگر جہراً پڑھی ہوتی تو ھَلْ قُرِأَ مَعِیْ { FR 4960 } کیوں فرماتے۔استفہام سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلعم کو ان کا پڑھنا سنا ئی نہیں دیا نفس پڑھنے کے گناہ نے نبی کے صاف قلب پر صدمہ دیا اور اس صدمہ نے منازعت کا لفظ کہلایا۔اوّل بجواب ان کے گزارش ہے کہ آپ نے شاید انکاری استفہام کلام عرب اور قرآن و حدیث میں نہیں سنا۔۲۔علاوہ بریں یہ عموم یا اطلاق عبادہ کے خاص یا مقید حدیث کا مقابلہ کب کر سکتا ہے۔سیوم۔مخالـجہ اور مخالطہ کی حدیث سے جو آگے آتی ہے آپ کا یہ تو ہم کہ استفہام انکاری نہیں بشرط انصاف رفع ہو گا انشاء اللہ۔چہارم۔منازعہ کی حدیث کا راوی جَہْرِی نمازوں میں بعد زمان نبوی قراءت فاتحہ خلف الامام کا عامل اور مفتی تھے اور قول صحابی اور تفسیر راوی آپ کی یہاں حجت ہے۔ایک عجیب قاعدہ عامہ حنفیوں کا اس وقت یاد آیا ہے۔میرے اہل حدیث بھائی اگر اس کو یاد رکھیں گے تو حنفیوں کے بہت سے جوابوں میں الزاماً ان کو کام آوے گا۔الزاماً اس لئے کہتا ہوں کہ یہ قاعدہ اور { FN 4959 } مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ سے چھینا جارہا ہے۔{ FN 4960 } کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ساتھ پڑھا ہے؟