فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 25
ہیں۔اوّل یہ کہ فاطمہ بنت قیس نے حضرت عمر کے پاس یہ حدیث پیش کی جبکہ وہ مطلقہ ہوئی تو آنحضرت صلعم نے اس کو نفقہ اور سُکْنـٰی نہ دلوایا پس حضرت عمر نے اس کی حدیث کو نہ مانااور کہا لَا نَدَعُ كِتَابَ رَبِّنَا وَلَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا بِقَوْلِ امْرَأَةٍ ‘ لَا نَدْ رِيْ أَصَدَقَتْ أَمْ كَذَ بَتْ أَحَفِظَتْ أَمْ نَسِيَتْ، فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنىٰ۔{ FR 4504 } اصول کی بعضی کتابوں میں پورا قصہ اور ترمذی اور ابوداؤد میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے۔وقت پر جو جواب حاصل ہوا وہ بھی گذارش ہے تاکہ مولوی صاحب کو اس کا بھی خیال رہے۔اوّل۔اس کے کئی ان جملوں پر جرح ہوئی ہے جو آپ لوگوں کے مفید مطلب ہیں۔اوّل دارقطنی نے کہا۔یہ جملہ کہ ہم سنت رسول خدا کو کس طرح چھوڑیں۔محفوظ نہیں۔ثقات نےذکر نہیں کیا۔امام احمد حنبل نے فرمایا۔یہ جملہ لَانَدَعُ کِتَابَ رَبِّنَا (ہم کتاب اللہ کو نہیں چھوڑتے ) اور مطلقہ کونفقہ دلاتےہیں۔حضرت عمر سے صحیح نہیں۔قرآن کریم میں مطلقہ ثلاثہ کے واسطے نفقہ وسُکْنیٰ کا کہاںذکر ہے۔اِبْنِ قَیِّمْ نے کہا ہے کہ یہ قصّہ جناب عمر پر افترا ہے۔قَالَ نَشْهَدُ بِاللهِ شَهَادَةً نُسْأَ لُ عَنْهَا إِذَا لَقِيْنَاهَا اِنَّ هٰذَا كَذِ بٌ عَلٰى عُـمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَذِ بٌ عَلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَنْبَغِيْ أَنْ لَّا يَحْمِلَ الْإِنْسَانَ فَرْطُ الِانْتِصَارِ لِلْمَذَاهِبِ وَالتَّعَصُّبِ لَهَا عَلٰى مُعَارَضَةِ سُنَنِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّحِيْحَةِ الصَّرِيْـحَةِ بِالْكَذِ بِ الْبَحْتِ۔{ FR 4505 } { FN 4504 } ہم اپنے ربّ کی کتاب اور اپنے نبیؐ کی سنت ایک عورت کی بات پر نہیں چھوڑیں گے۔ہم نہیں جانتے کہ اس نے سچ کہا یا غلط۔یا اس نے یاد رکھا یا بھول گئی۔کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خرچ اور رہائش اس کا (حق) ہے۔{ FN 4505 } (ابن قیم ّنے) کہا: ہم اللہ کو گواہ ٹھہرا کر شہاد ت دیتے ہیں کہ جب ہم اس سے ملیں گے تو ہم سے اس (عورت) کے متعلق پوچھا جائے گا۔یہ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر افترا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق غلط بیانی ہے۔اور چاہیے کہ انسان پر مسالک کی جیت اور ان کے تعصب کا اعتدال سے ہٹا دینا، کھلم کھلا جھوٹ کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کی واضح سنتِ صحیحہ کی مخالفت کا بوجھ نہ ڈال دے۔(زاد المعاد، ذکر أحکام الرسول ﷺ فی الطلاق، فصل فِي حُكْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُوَافِقِ لِكِتَابِ اللهِ أَ نَّهُ لَا نَفَقَةَ لِلْمَبْتُوْتَةِ وَلَا سُكْنٰى، فَصل رَدُّ مَطْعَنِ مُعَارَضَةِ رِوَايَتِهَا بِرِوَايَةِ عُمَرَ، جزء۵ صفحہ۴۸۰)