فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 24
عرض ہے۔یُوْصِیْکُمُ اللہُ فِیْ اَوْلَادِکُمْ { FR 4839 } میں کُمْ کا لفظ عام ہے اور اولاد کا لفظ بھی عام۔پھر آپ نے کیا جمہور اسلام نے یا اہل سنت و جماعت نے نَـحْنُ مَعْشَرُالْاَنْبِیَآءِ لَا نُوْرِثُ مَا تَرَکْنَا فَھُوَ صَدَقَةٌ { FR 4840 } جیسے خبرواحد سے جس کے راوی صرف جناب صدیق الاکبر ہی ہیں اور حدیث لَا یَرِثُ الْکَافِرُ الْمُسْلِمَ { FR 4841 }سے یُوْصِیْکُمُ اللہُ فِیْ اَوْلَادِکُمْ کی تخصیص میں کئی قرآنی عموموں کا خیال نہ فرمایا۔اور کافر کی مومن اولاد کو اور مومن کی کافر اولاد کو اس حدیث کے باعث ورثہ سے محروم کیا۔او ر ُکل صحابہ نے جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و سلم کے مالی ورثہ سے جناب بتول کو مَـحْرُوْمَةُ الْاِرْثِکیا اور عموم قرآن کو چھوڑ کر خبرواحد پر عمل فرمایا۔اور جناب عمرو جناب عثمان و جناب مرتضیٰ نے اپنی اپنی خلافت کے زمانہ میں اسی خبر واحد پر عمل کیا۔پھر کسی آپ جیسے ُسنیّ نے ان کو نہ کہا کہنَـحْنُ مَعْشَرُالْاَنْبِیَآءِ کی حدیث احاد سے ہے۔اس سے تخصیص عموم قرآنی جائز نہ تھی۔آپ لوگوں نے کیسے جائز کر لی۔نَـحْنُ مَعَاشِرُالْاَنْبِیَآءِ کی حدیث کو مسلّم الثبوت میں اخبار احاد سے مانا ہے جیسا گزرا۔معترضہ جملہ دلائل مانعین تخصیص بخبرواحد ایک ہمارے مہربان نے اس وقت جب میں اس مقام پر پہنچا فرمایا کہ جناب عمر نے عموم قرآن پر عمل کرنے میں ایک خبرواحد کو ترک فرمایا ہے اور تم نے علی العموم صحابہ کی طرف سے کہہ دیا کہ ان کے یہاں خبرواحد سے تخصیص جائز ہے۔میں نے عرض کیا کہ مومن اور کافر کے باہمی توریث کا کل امت نے اور انبیاء علیہم السلام کی مالی توریث کا اہل سنت نے خبرواحد کے باعث انکار کیا اور کسی صحابی سے کوئی اثر اس کے خلاف پر ثابت نہیںا ور عمر رضی اللہ عنہ کا خود بھی اسی بات پر عمل رہا ہے۔اگر اس کے خلاف کوئی امر ثابت ہو تو بیان کرو۔انہوں نے فرمایا۔دو دلیلیں { FN 4839 } اللہ تمہاری اولاد کے متعلق تمہیں حکم دیتا ہے۔{ FN 4840 } ہم انبیاء کا گروہ ہیں۔ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔جو ہم چھوڑجائیں وہ صدقہ ہے۔{ FN 4841 } کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا۔