فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 26 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 26

دوم۔اس قصہ کاراوی جناب عمرؓ سے ابراہیم نخعی ہے اور اس کی ملاقات جناب عمر ؓ سے ثابت نہیں۔سوم۔جناب ابن عباس ؓنے جناب عمرؓ سے اس امر میں خلاف کیا اور جب صحابی صحابی کے خلاف ہو تو فریقین کا قول حجت نہیں ہوتا (دیکھو اپنا اصول)ہاں کوئی مرجح ہو تو باعث ترجیح ہو سکتا ہے جیسے ہماری طرف ہے۔چہارم۔جناب عمر ؓنے فاطمہ ؓکی بات کو اس لئے ر د ّ فرمایا کہ راویہ کی راستی اور حفظ پر جناب کو اعتراض تھا۔دوسری دلیل حنفیوں کی اس بات پر کہ حدیث قرآن کے مقابلے حجت نہیں۔اصول کی کتابوں میں لکھا ہے۔قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ تَكْثُرُ لَكُمُ الْأَحَادِيْثُ مِنْ بَعْدِيْ فَإِذَا رُوِيَ لَكُمْ (عَنِّيْ) حَدِيثٌ فَاعْرِضُوْهُ عَلٰى كِتَابِ اللهِ تَعَالٰى فَمَا وَافَقَ (كِتَابَ اللهِ تَعَالٰى) فَاقْبَلُوهُ وَمَا خَالَفَهٗ فَرَدُّوْهُ۔{ FR 4506 }؂ ا س حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث پر جو قرآن کے موافق نہ ہو عمل جائز نہیں ہے۔جواب اس حدیث کی نسبت شیخ ابن طاہر حنفی نے تذکرة الموضوعات میں لکھا ہے کہ خطابی نے کہا ہے کہ اس حدیث کو زندیقوں نے وضع کیا ہے اور ردّ کرتی ہے اس کو حدیث اِنِّیْ اُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَ مَا یَعْدِ لُہٗ۔وَ یُرْوٰی وَ مِثْلُہٗ کَذَا قَالَ الصَّغَانِیْ وَ ھُوَ کَمَا قَالَ۔اِنْتَہٰی۔{ FR 4507 }؂ اور مولوی عبد العلی مسلّم الثبوت کی شرح میں کہتے ہیں قال صاحب سفر السعادة اَنَّہٗ مِنْ اَشَدِّ الْمَوْضُوْعَاتِ۔قَالَ الشَّیْخُ ابْنُ حَـجَرٍ عَسْقَلَانِیُّ قَدْجَآءَ بِطُرُقٍ لَاتَـخْلُوْ عَنِ الْمَقَالِ وَ قَالَ { FN 4506 }؂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میرے بعد کثرت سے احادیث تم سے بیان کی جائیں گی۔پس جب تم سے میرے متعلق کوئی حدیث بیان کی جائے تو اسے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر پرکھ لو۔پھر جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق ہو اُسے قبول کرلو اور جو اس کے مخالف ہو، اُسے ردّ کردو۔(أصول البزدوي, باب بیان قسم الإنقطاع، الإنقطاع الظاھر، الانقطاع الباطل) { FN 4507 }؂ مجھے کتاب دی گئی ہے اور وہ (بھی) جو اس کے برابر ہے اور ایک روایت میں ہے (اور وہ بھی) جو اس کے مثل ہے۔جیسا کہ صغانی نے کہا ہے: اور وہ اسی طرح ہے جیسا کہ آپؐ نے فرمایا۔