فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 10 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 10

اس حدیث میںجو خِدَاج کا لفظ آیا ہے اس کے معنی سنئے۔قَالَ الْبُخَارِیُّ قَالَ أَبُوعُبَيْدٍ۔۔۔۔۔۔۔أَخْدَجَتِ النَّاقَةُ إِذَا أَسْقَطَتْ وَالسَّقْطُ مَيِّتٌ لَا يُنْتَفَعُ بِهٖ۔قَالَ صَاحِبُ الْاِسْتِذْکَارِ: اَلْـخِدَاجُ ‘ اَلنُّقْصَانُ وَالْفَسَادُ وَ یُقَالُ أَخْدَجَتِ النَّاقَةُ۔إِذَا وَلَدَتْ قَبْلَ تَمَامِ وَقْتِهَا وَقَبْلَ تَمَامِ الْـخَلْقِ وَذَالِكَ نِتَاجٌ فَاسِدٌ۔{ FR 4489 } ؂ اور حدیث کا مفسر خود راوی ہے۔اور راوی کی تفسیر آپ کے یہاں حجت ہے دیکھو اسی فاتحہ خلف الامام کے مسئلہ میں اِذَا قُرِ ئَ فَانْصُتُوْا۲؂ کی حدیث میں آپ لوگوں نے جابر کی تفسیر سے استدلال پکڑا ہے فَانْصُتُوْا۳؂ کے ساتھ عَـمَّا سِوَی الْفَاتِـحَةِ ۴؂ مراد نہیں کیونکہ جابر راوی حدیث بھی فاتحہ خلف الامام کا منکر ہے (یہ بات الزاماً مرقوم ہوئی) بلکہ راوی کا مطلق قول بھی حجت ہے۔ہاں ابوہریرہ ہے۔وہی ابوہریرہ جس کا حافظہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا معجزہ ہے۔جس سے عبد اللہ بن زبیر اور ابن عباس جیسے فقیہ مسائل معضّلہ میں سوال کرتے تھے (دیکھو مؤطا مالک) اور وہی ابوہریرہ جس کے حق میں فَوَاتِـحِ الرَّحْـمُوْت میں مصراة کا قصہ لکھ کر اور شُرَّاح و متونِ اصول سے یہ عذر کہ اس کا راوی ابوہریرہ ہے اور وہ فقیہ نہیں بیان کر کے کہا ہے۔فيه تأمل ظاهر فان أبا هريرة فقيه مجتهد لا شك في فقاهته فانه كان يفتي زمن النبي صلى الله عليه وآله وأصحابه وسلم وبعده وكان هو يعارض قول ابن عباس وفتواه كما روى في الخبر الصحيح أنه خالف ابن عباس في عدة الحامل المتوفى عنها زوجها حيث حكم ابن عباس بأبعد الأجلين وحكم هو بوضع الحمل وكان { FN 4489 } ؂ امام بخاریؒ نے( جزء القراءۃ خلف الإمام میں) کہا: اور ابوعبید نے کہا ہے: جب اونٹنی بچہ گرا دے تو أَخْدَجَتِ النَّاقَةُ کہا جاتا ہے۔اور اَلسَّقْطُ وہ مردہ (بچہ) ہے جس سے فائدہ نہ اُٹھایا جائے۔۔۔۔(ابن عبد البر) صاحب الاستذکار نے لکھا ہے: اور الْخِدَاجُ کمی اور خرابی ہے۔اور جب کوئی اونٹنی قبل از وقت اور ایام تخلیق پورے ہونے سے پہلے بچہ جنے تو وہ بچہ ناقص الخلقت اور خراب ہوتا ہے۔۲؂ جب (قرآن کریم) پڑھا جائے تو خاموش رہو۔۳؂ خاموش رہو۔۴؂ سورۂ فاتحہ کے علاوہ۔