فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 11 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 11

سلمان يستفتي عنه فهذا ليس من الباب في شي ءٍ۔۱؂ وَفِيْ بَعْضِ شُرُوْحِ الْأُصُوْلِ لِلْإٍمَامِ فَخْرِ الْإِسْلَامِ قَالَ الْبُخَارِيُّ رَوَى عَنْهُ سَبْعُ مِائَةِ نَفَرٍ مِنْ أَوْلَادِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَقَدْ رَوَى عَنْہُ جَمَاعَةٌ مِّنَ الصَّحَا بَةِ فَلَا وَجْهَ لِرَدِّ حَدِيْثِهٖ فَتَأَمَلْ فَاِنَّ فِيْهِ تَأَمُّلًا فَاِنَّ الْحَقَّ فِيْ دَفْعِ اِسْتِدْلَالِ الشَّافِعِيِّ۔(انتہٰی) ۲؂ قراء ت سے تدبر مراد لینا جائز نہیں علاوہ بریں فقاہت راوی کا شرط ہونا امام (ابوحنیفہ) کا مذہب نہیں۔ابن ہمام نے تحقیق میں کہا ہے۔ولم ينقل من السلف اشتراط الفقه من الراوي(انتہٰی) ۳؂ اور وہ جو رفع یدین کے مسئلہ میں اوزاعی اور امام کا مناظرہ بعض لوگوں نے بیان کیا ہے جس میں فقاہت راوی کا تذکرہ ہے۔اس مناظرہ کا کوئی اصل نہیں۔ابن عیینہ سے معلّق مروی ہے اگر کسی کے پاس سند ہو وہ بیان کرے پس ہم کو زیادہ گفتگو کرنے کی حاجت نہیں۔بعد سند دیکھ لیں گے۔کون شیرمرد ا سے ثابت کر دکھاتا ہے اور کون مہمل اور غیرواقع بتاتا ہے۔پھر کون سچا ہے ۱؂ یہ واضح طور پر توقف کا مقام ہے۔کیونکہ حضرت ابوہریرہؓ ایک فقیہ اور مجتہد تھے، ان کی فقاہت میں کوئی شک نہیں کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں اور آپؐ کے بعد بھی فتوے دیا کرتے تھے۔اور وہ حضرت ابن عباسؓ کے قول اور فتویٰ کی مخالفت بھی کیا کرتے تھے جیسا کہ ایک حدیث ِ صحیح روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے حاملہ جس کا خاوند فوت ہوچکا ہو، کی عدت کے متعلق حضرت ابن عباسؓ سے اختلاف کیا جس میں حضرت ابن عباسؓ نے دو میں سے زیادہ دُور کی عدت کے متعلق فیصلہ دیا اور انہوں نے وضع حمل کے متعلق فیصلہ دیا۔اور سلمان ان سے فتویٰ پوچھا کرتے تھے۔پس اس بات کا اس باب سے کچھ تعلق نہیں ہے۔(فواتح الرحموت،لابن نظام الدین الانصاری جزء۳ صفحہ ۳۱۱) ۲؂ امام فخر الاسلام (بزدوی) کی کتاب اصول کی بعض شروح میں ہے کہ امام بخاری نے کہا کہ مہاجرین اور انصار کی اولاد میں سے سات سو افراد نے ان (یعنی حضرت ابوہریرہؓ) سے روایت کی ہے اور صحابہ کی ایک جماعت نے بھی ان سے روایت کی ہے۔پس ان کی حدیث کو ردّ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔غور کرو کیونکہ اس میں غور کرنے کی ضرورت ہے اور (یہاں) امام شافعی ؒکے استدلال کو ردّ کرنا ہی درست ہے۔(فواتح الرحموت،لابن نظام الدین الانصاری جزء۳ صفحہ ۳۱۱) ۳؂ اور گذشتہ علماء سے راوی کی سمجھ کی شرط منقول نہیں ہے۔