فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 9 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 9

" قَالَ اللهُ تَعَالٰى: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِيْ وَبَيْنَ عَبْدِيْ نِصْفَيْنِ وَلِعَبْدِيْ مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: اَلْـحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (الفاتحة: ۲) قَالَ اللهُ تَعَالٰى حَمِدَنِيْ عَبْدِيْ وَ إِذَا قَالَ‘ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ (الفاتحة:۳) قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ أَثْنٰى عَلَـيَّ عَبْدِيْ وَ إِذَا قَالَ مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ (الفاتحة:۴) قَالَ مَجَّدَنِيْ عَبْدِيْ وَقَالَ مَرَّةً فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِيْ فَإِذَا قَالَ‘ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ (الفاتحة: ۵) قَالَ هٰذَا بَيْنِيْ وَ بَيْنَ عَبْدِيْ وَ لِعَبْدِيْ مَا سَأَ لَ فَــإِذَا قَالَ‘ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة:۶، ۷) قَالَ هٰذَا لِعَبْدِيْ وَ لِعَبْدِيْ مَا سَأَ لَ۔" { FR 5032 } ؂ (مسلم کتاب الصلٰوة باب وجوب قراء ة الفاتحة) { FN 5032 } ؂ ترجمہ۔اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے علاء بن عبد الرحمٰن سے، علاء نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جس نے (ایسے) نماز ادا کی کہ اُس میں اُمُّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) نہ پڑھی تو وہ (نماز) ناقص ہے۔(آپؐ نے) تین بار فرمایا: وہ نامکمل ہے۔حضرت ابوہریرہؓ سے کہا گیا کہ ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں؟تو انہوں نے کہا: اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کرو۔کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کردی ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے مانگا۔پس جب بندہ اَلْـحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَکہتا ہے یعنی ’’تمام حمد اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد کی ہے۔اور جب وہ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کہتا ہے (یعنی وہ بے انتہا رحم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے) اللہ عزّوجلّ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی ہے اور جب وہ کہتا ہے: مَالِكِ يَــوْمِ الدِّيْنِ (یعنی وہ جزا سزا کے دن کا مالک ہے) توفرماتا ہے: میرے بندے نے میری بڑائی و عظمت بیان کی ہے۔اور ایک دفعہ فرمایا: میرے بندے نے (اپنا آپ) میرے سپرد کردیا ہے۔اور جب وہ کہتا ہے: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ (یعنی تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں) تو فرماتا ہے: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہےاور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے مانگا۔پھر جب وہ کہتا ہے: اِهْدِ نَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ یعنی’’ہمیں سیدھے راستہ پر چلا، ان لوگوں کے راستہ پر جن پر تُو نے انعام کیا ، جن پر غضب نہیں کیا گیا اور جو گمراہ نہیں ہوئے۔‘‘تو فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے۔اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے مانگا۔