فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 139
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یقول الوتر رکعة من آخر اللیل رواہ احمد و مسلم۔{ FR 5245 } ترجمہ۔وتر ایک رکعت ہے بلکہ ایک ہی رکعت ہے۔وروی سعید بن منصور باسناد صحیح صلی ابن عمر رکعتین ثم قال یا غلام ارجل لنا ثم قام و اوتر برکعة۔ابن عمر نے دورکعتیں پڑھیں پھر کہا اوغلام سواری کس دے پھر کھڑا ہوا اور ایک رکعت وتر پڑھ لی۔اور عائشہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ گیارہ رکعت پڑھتے۔یُسَلِّمُ بَیْنَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَ یُوْتِرُ بِوَاحِدَةٍ۔{ FR 5246 } اور ظاہر ہے کہ گیارہ رکعتوں میں یُسَلِّمُ کے معنے اوسط تشہد کے حنفیہ کے نزدیک بھی نہیں بن سکتے۔راوی کی تفسیر راوی کا قول اگر حنفی حجت جانتے ہیں اگر عبارةُ النَّص کو ترجیح دیتے ہیں اگر انصاف کا خون نہیں کرتے اگر ابن عمر کو فقیہ مانتے ہیں۔اگر اسے عاشق اتباع سمجھتے ہیں (یہ عاشق کا لفظ یاد رکھنے کا ہے) اور وہ جو محمد بن کعب قرظی سے نَـھٰی عَنِ البُتَیْرَاء کی حدیث مروی ہے۔اس کی نسبت عراقی نے کہا ہے مرسل ضعیف اور ابن حزم( یاد کرو قول شیخ عبد الحق)نے کہا ہے لَمْ يَصِحَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهْيٌ عَنْ الْبُتَيْرَآءِ، وَلَا فِي الْحَدِيثِ عَلَى سُقُوطِهٖ بَيَانُ مَا هِيَ الْبُتَيْرَآءُ۔قَالَ قَدْ رُوِّينَا مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔۔۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الثَّلَاثُ بُتَيْرَآءُ يَعْنِي الْوِتْرَ، قَالَ: فَعَادَ الْبُتَيْرَآءُ عَلَى الْمُحْتَجِّ بِالْخَبَرِ الْكَاذِبِ فِيْهَا۔{ FR 5248 } اور ابن مسعود کے اثر مَا { FN 5245 } حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ اُن دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپؐ فرماتے تھے: وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے۔امام احمد اور امام مسلم نے اسے روایت کیا ہے۔{ FN 5246 } آپؐ ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے اور ایک رکعت سے وتر کرلیتے۔(صحيح مسلم، کتاب الصلاة المسافرین، بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ، وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ، وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ) { FN 5248 } نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کٹی ہوئی (اکیلی رکعت پڑھنے) کی مناہی کی روایت صحیح نہیں ہے۔اور نہ ہی حدیث میں اس کے ساقط ہونے کے متعلق کوئی بیان ہے کہ یہ بُتَیراء کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم سے بواسطہ عبد الرزاق حضرت ابن عباسؓ کی روایت کی گئی ہے کہ تین (رکعت) یعنی وتر ناقص ہے۔انہوں نے کہا: پس اس کے متعلق جھوٹی خبر کے باعث نقص دلیل قائم کرنے والے پر ہی اُلٹ جاتا ہے۔