فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 138 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 138

شرعی نماز میں قراءت تو فرض ہے اِلاَّ ایک رکعت شرعی نماز کافرد نہیں کیونکہ شارع نے بُتَیْرا سے منع فرمایا ہے۔انتہٰی۔جوابِفقیر۔عینی کے اعتراض کا مدارصرف یہ ہے کہ ایک رکعت شرعی نماز نہیں۔پس میں اگر ایک رکعت کا شرعی نماز ہونا ثابت کردوں تو عینی کا جواب ہو گیا۔سو سنیے۔عَنْ ابْنِ عُمَرَ۔۔۔قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنٰى مَثْنٰى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ۔رواہ الجماعة۔منتقٰی۔ترجمہ۔ابن عمر سے۔فرمایا۔رسول اللہ نے رات کی نماز دو دو رکعت ہے جب صبح کا ڈر کرے تو ایک رکعت وتر پڑھے۔فائدہ حنفیہ نے اَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ کا ترجمہ فرمایا ہے۔طاق کردے پہلی نماز کو ایک رکعت ملا کر۔پھر جب ان کو سنایا گیا۔زاد احمد: تُسَلِّمُ فِيْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ۔و کذا مسلم من ابن عمر { FR 5241 }؂ تو کہہ دیا تَسَلَّمْ کے معنی ہیں اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ کہنا اور اسے تشہد اوسط کا اثبات مطلوب ہے۔صدق البخاری یکثر الکلام لیعلم۔{ FR 5242 }؂ اب ان کے ترجمہ اور تاویل کی غلطی سنیے۔روی البخاری عن ابن عمر انہ کان یسلّم بین الرکعتین و الرکعة فی الوتر حتی کان یأمر ببعض حاجة۔ترجمہ۔ابن عمر وتروں کی دو رکعت اور ایک رکعت کے درمیان سلام پھیرتے یہاں تک کہ اپنے مطلب کی بات کہہ لیتے۔اور اسے صریح۔عن ابن عمر وابن عباس انھما سمعا النبی { FN 5241 }؂ امام احمد نے یہ الفاظ زیادہ بتائے ہیں کہ تو ہر دو رکعتوں میں سلام پھیرے۔اور امام مسلم نے بھی حضرت ابن عمرؓ سے ایسا ہی بیان کیا ہے۔{ FN 5242 }؂ امام بخاریؒ نے سچ کہا ہے کہ زیادہ کلام اس لیے ہوتا ہے تاکہ علم ہوسکے۔