فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 140 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 140

أَجْزَأَتْ رَكْعَةٌ قَـــطُّ۔{ FR 4717 }؂ پر نووی نے شرح مہذّب میں کہا ہے۔إنَّهُ لَيْسَ بِثَابِتٍ عَنْهُ۔قَالَ: وَلَوْ ثَبَتَ لَحُمِلَ عَلَى الْفَرَائِضِ، فَقَدْ قِيلَ: إنَّهٗ ذَكَرَهُ رَدًّا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِيْ قَوْلِهٖ: اَلصَّلَاةُ فِيْ حَالِ الْخَوْفِ رَكْعَةٌ وَاحِدَةٌ۔بَلْ رَوَى ابْنُ أَبِيْ شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ عَنِ ابْنِ سِيْرِينَ: سَمَرَ حُذَيْفَةُ وَابْنُ مَسْعُودٍ عِنْدَ الْوَلِيدِ وَهُوَ أَمِيْرُ مَكَّةَ، فَلَمَّا خَرَجَا أَوْتَرَ كُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا بِرَكْعَةٍ۔{ FR 4718 }؂ یہ اگرچہ مرسل ہے اِلاَّمرُ سل حنفیہ کے نزدیک موقوف کی طرح حجت ہے۔وتر کی ایک رکعت کس کس صحابی کا مذہب ہے خلفاؔء اربعہ‘ سعدؔبن ابی وقاص ‘معاذؔ ‘ابی ؔبن کعب ‘ابوؔموسیٰ ‘ابودؔرداء ‘حذؔیفہ ‘ابنؔ مسعود ابنؔ عمر ‘ابن ؔعباس ‘معاوؔیہ ‘تمیمؔ داری ‘ابوؔایوب ‘ابوؔہریرہ ‘فضاؔلہ بن عبید ‘عبدؔ اللہ بن زبیر ‘معاؔذ بن حارث اس کی صحبت میں اختلاف ہے۔تابعین اور علماء جن کے نزدیک وتر ایک رکعت ہے ساؔلم بن عبد اللہ‘ عبدؔاللہ بن عیاش ‘حسنؔ بصری ‘محمدؔ بن سیرین ‘عطاؔ ‘عقبہؔ ‘سعیدؔ بن جبیر‘ نافعؔ ‘جبیر جابرؔبن زید‘ ؔزہری ‘ربیعہؔ اور ائمہؔ میں سے۔امامؔ مالک ‘شاؔفعی ‘اوزاؔعی ‘احمدؔ ‘اسحاؔق‘ ابوؔثور ‘داوؔد ابن حزمؔ۔انتہیٰ۔نَیل۔{ FN 4717 } ؂ ایک رکعت (اکیلی) کبھی ادا نہیں ہوتی۔{ FN 4718 } ؂ یہ (روایت) ان سے ثابت نہیں ہے۔انہوں نے کہا: اور اگر ثابت ہو جائے تو فرائض پر محمول کی جائے گی۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے یہ (بات) حضرت ابن عباسؓ کے اس قول کے ردّ میں ذکر کی ہے کہ خوف کی حالت میں نماز ایک رکعت ہوتی ہے۔بلکہ ابن ابی شیبہ اور محمد بن نصر نے ابن سیرین سے روایت کی ہے کہ حضرت حذیفہؓ اور حضرت ابن مسعودؓ نے ایک رات ولید (بن عقبہ) کے پاس مجلس کی۔پھر جب وہ دونوں باہر نکلے تو اُن دونوں میں سے ہر ایک نے ایک رکعت سے وتر کیا۔