فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 137 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 137

کما ذکر العینی البدر التمام وثبت عنھا وابن مسعود خلافکم فی القراءة خلف الامام کما ذکر البخاری وقد طبع فی الدهلی بفضل الباری وافھم این للاثار مع التخالف مقابلة المرفوع وهذا عند اولی النهی ظاهر مقطوع۔ومن قال فی المواظبة أنھا کانت مع ترک أو فی اغلب الاحوال۔أقول له من اجبرک علی التفوہ بالترک والأغلب بیّن ان انت من الرجال۔واللہ لن تستطیع انت مع الناصرین۔فاسکت فاِنَّکَ فِی الْـخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْن۔{ FR 4716 }؂ چھٹی دلیل۔ہر رکعت میں فاتحہ پڑھنے کی جس کو حنفی بھائیوں نے امام شافعی کی طرف سے بغرض تردید لکھا ہے۔اور فقیر اس مسئلے میں شافعی کا قول سچا یقین کر کے بامید نصرت جس کا وعدہ وَلَیَنْصُرَنَّ اللہَ مَنْ یَّنْصُرُہٗ { FR 5240 }؂میں ہو چکا ہے اس کو بغرض تائید بیان کرتا ہے۔قالوا قال‘ قال رسول اللہ صلعم لاصلوٰة الابفاتحة الکتاب و کل رکعة صلوٰة نکرہ حیز نفی میں عموم کا فائدہ دیتا ہے۔پس ترجمہ یہ ہو گا۔حنفیہ نے کہا شافعی کہتا ہے۔رسول اللہؐ نے فرمایا کوئی نماز فاتحہ کے سوائے نہیں ہوتی۔اور ہر رکعت نماز ہے۔عَینی نے اس پر کہا ہے۔میں کہتا ہوں تو (شافعی کو) صلوٰة سے ُلغوی صلوٰة لیتا ہے یا شرعی‘ لُغةً صلوٰة دعا ہے اور دعا کے کسی فردمیں قراءت شرط نہیں اور { FN 4716 } ؂ پس تم امام کے پیچھے (سورۂ فاتحہ) پڑھو۔اور اقتداء کرنے کے لحاظ سے یہ کافی ہے۔پھر جان لو کہ تمہارا روایت کردہ اثر منقطع ہے،ابن ہمام نے اس کی وضاحت کی ہے۔اور یہ حضرت عائشہؓ کا اثر بھی ثابت نہیں ہے جیسا کہ علاّمہ عینی …… نے ذکر کیا ہے اور ان سے (یعنی حضرت عائشہؓ سے) اور حضرت ابن مسعودؓ سے تمہارے خلاف امام کے پیچھے قراءت کرنے کے متعلق ثابت ہے، جیسا کہ امام بخاریؒ نے ذکر کیا ہے اور باری تعالیٰ کے فضل سے یہ (کتاب) دہلی سے شائع ہوچکی ہے۔اور سمجھو کہ ایسے مخالف آثار کا مرفوع کے ساتھ کہاں مقابلہ ہے۔اور عقلمندوں کے نزدیک یہ بات واضح اور قطعی ہے۔اور جس نے مداومت کے متعلق اور غالب صورتِ حال کے متعلق کہا کہ وہ چھوڑنے کے ساتھ ہے تو میں اسے کہوں گا تمہیں کس نے اس پر مجبور کیا ہے؟ ترک کرنے اور غالب صورتِ حال کے متعلق غور کرو اور واضح کرو اگر تم مردوں میں سے ہو۔اللہ کی قسم! تم مددگاروں کے ساتھ بھی اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔پس خاموش ہوجاؤ کیونکہ تم بحث میں غیر واضح بات کرنے والے ہو۔۔{ FN 5240 }؂ اور اللہ یقیناً اس کی مدد کرتا ہے جو اُس (کے دین) کی مدد کرتا ہے۔