فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 124 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 124

پہلی دلیل بخاری اور مسلم کی متفق حدیث میںمُسِيء فِي الصَّلَاة۔{ FR 5190 }؂ کا اصل قصہ آچکا ہے چنانچہ ہمارے مولوی صاحب نے بھی مطلق قراءت قرآن میں اسی سے استدلال پکڑا ہے۔عن أبی ھریرة مرفوعًا فی قصّة المُسِيْ ئِ علّمنی فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا قمت الی الصلاة فکبّر ثم اقرأ ما تیسر معک من القرآن۔وفی روایة لأحمد وابن حبان ثم اقرأ بأم القرآن ثم اقرأ بما شئت۔وفی روایة لأبی داوٗد والنّسائی مِنْ حَدِيْثِ رِفَاعَةَ: فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ بِهٖ وَ إِلَّا فَاحْمَدِ اللهَ وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ۔وفی روایة لأبی داود مِنْ حَدِيْثِ رِفَاعَةَ: ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِمَا شَاءَ اللهُ تَعَالٰى۔ثم فی المتفق علیه: ثُمَّ ارْكَعْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا۔وفی النووی: ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ اتَّفَقَا فَقَالَا ثُمَّ افْعَلْ ذٰلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا۔وعند أحمد وابن حبان والبیهقی کما فی التلخیص ثم اصنع ذٰلک فی کلّ رکعة۔{ FR 5569 }؂ اس حدیث میں { FN 5190 }؂ نماز میں غلطی کرنے والا۔{ FN 5569 }؂ (نماز میں) غلطی کرنے والے کے واقعہ کے متعلق حضرت ابوہریرہؓ سے مرفوع روایت ہے کہ (اُس نے کہا:) آپؐ مجھے سکھائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیر کہو، پھر قرآن میں سے جو تمہیں میسر ہو پڑھو۔اور امام احمد اور ابن حبان کی ایک روایت میں ہے کہ (آپؐ نے فرمایا:) پھر اُمّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) پڑھو، پھر (قرآن سے) جو چاہو پڑھو۔اور ابوداؤد اور نسائی کی ایک روایت میں ہے جو حضرت رفاعہؓ کی حدیث ہے کہ پھر اگر تمہیں قرآن (میں سے کچھ) ياد ہو تو اسے پڑھو، وگرنہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور کبریائی بیان کرو اور لا الہ الا اللہ کہو۔اور ابو داؤد کی ایک روایت میں ہے جو حضرت رفاعہؓ ہی کی حدیث ہے کہ پھر تم اُمّ ِالقرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) پڑھو اور (وہ بھی پڑھو) جس کی اللہ تعالیٰ توفیق دے۔پھر ایک متفق علیہ (روایت) میں ہے کہ پھر تم رکوع کرو، یہاں تک کہ رکوع میں تمہیں اطمینان ہوجائے۔پھر اُٹھو، یہاں تک کہ بالکل ٹھیک کھڑے ہوجاؤ۔پھر سجدہ کرو، یہاں تک کہ سجدہ میں تمہیں اطمینان ہوجائے۔پھر اُٹھو، یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔اور نووی میں ہے: پھر سجدہ کرو، یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرلو۔پھر (امام بخاری ومسلم) دونوں نے متفقاً کہا ہے کہ پھر اپنی ساری نماز میں اسی طرح کرو۔اور جیسا کہ التلخیص میں ہے کہ احمد، ابنِ حباّن اور بیہقی کے نزدیک یہ ہے کہ پھر ہر رکعت میں اسی طرح کرو۔