فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 123
بدریًّا کلھم علی انہ لایقرأ خلف الامام۔کذا ذکرہ علی القاری۔{ FR 4702 } فقیر۔لیس البنایة من کتب الحدیث والآثار بل ولا من الکتب التی علیہا شیء من الاعتبار بل اقول صاحب النہایة والکافی قد کذبا کذبًا صریحًا و ارتکبا غلوًّا قبیحًا فان کنت فی شک مما انزلنا الیک فاسئل الذین قد وسعوا النظر فی الاسناد وھم اھل الذکر و الاعتماد۔{ FR 4703 } مسئلہ مدرک رکوع کی بحث اصل سوال۔مدرک رکوع مدرک رکعت میشود یانے۔جواب۔رکوع کا مدرک اگر رکوع سے پہلے فرائض اور شرائط کو ادا کر چکا ہے تو مدرک رکعت ہے اگر ادا نہیں کر چکا تو نہیں۔مثلاً مدرک رکوع بدوں وضو شریک نماز ہوا اس کی رکعت نہیں ہوتی۔یا بدوں تکبیر شامل ہوا تو اس کی رکعت اور نماز نہیں ہوئی یا بدوں قراءت فاتـحة الکتاب اور قیام بقدر طمانینت شامل نہ ہو تو اس کی رکعت نہیں۔وغیرہ وغیرہ۔قراءت فاتـحةالکتاب میں ہمارے پاس والے بھائی مخالف ہیں۔اس لئے اوّل فاتحہ کے ہر رکعت میں فرض ہونے کے دلائل بیان کرتا ہوں پھر اس مسئلہ کی وجہِ بنا اس پر پھر اُن اعتراضوں کا جواب جو قائل عدم اعتدا د رکعت پروارد ہوتی ہیں دوں گا۔پھر اخیر میں مولوی صاحب کے دلائل پر مختصر کلام کروں گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔{ FN 4702 } اور ’’ البناية (شرح الهداية للعینی) ‘‘ میں ہے کہ مقتدی کو قراءت سے منع کرنا صحابہ میں سے اَسی (80) افراد سے مروی ہے۔الکافی کے مصنف نے کہا کہ (حضرت علی) مرتضیٰؓ اور عبد اللہ نامی (صحابہ) ان میں سے ہیں۔اور کرمانی میں شعبی سے روایت ہے کہ میں نے ستر(70) بدری صحابہ کو اس موقف کا حامل پایا، کہ امام کے پیچھے قراءت نہیں کی جاتی۔جیسا کہ ُملاّ علی القاری نے اس کا ذکر کیا ہے۔{ FN 4703 } البنایة حدیث اور آثار کی کتب میں سے نہیں ہے۔بلکہ اُن کتب میں سے بھی نہیں ہے جن پر کچھ اعتبار ہوتا ہے۔بلکہ میں کہوں گا کہ البنایہ اور الکافی کے مصنفین نے کھلم کھلا کذب بیانی کی ہے اور ان دونوں نے نہایت ناپسندیدہ غلو کا ارتکاب کیا ہے۔پھر بھی اگر تم اس کے متعلق جو ہم نے تمہارے سامنے بیان کیا ہے کسی شک میں ہو تو اُن لوگوں سے پوچھ لو، جنہیں علم اسناد میں وسعت ِ نظر حاصل ہے، اور وہی لوگ نصیحت واعتماد والے ہیں۔