فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 125
دیکھو اور یہ بھی یاد رکھو زیادت ثقہ کی مقبول ہے۔قال ابن الهمام فی حاشیة الهدایة: لَوْ تَفَرَّدَ الثِّقَةُ وَجَبَ قَــبُوْلُهٗ (وَقَالَ) زِيَادَةُ الثِّقَةِ مَقْبُوْلَةٌ۔انتہٰی۔{ FR 5570 } اس حدیث میں خلاّد بن رافع کو جس نے نماز میں کچھ غلطی کی تھی۔جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ڈانٹا اور کہا صَلِّ فَاِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ۔{ FR 5571 } پھر قراءت اُمّ القرآن اور بِـمَا شَآءَ کا حکم دے کر فرمایا ہر رکعت میں اور تمام نماز میں ایسا ہی کر۔پس ثابت ہوا کہ قراءت فاتحہ ہر رکعت میں ضروری ہے۔پندرہ برس کا عرصہ گذرا کہ مجھ سے کسی عامل بالحدیث نے یہ مسئلہ دریافت کیا تھا۔اس وقت میں نے عدم اعتداد رکعت کا اس مدرک رکوع کے حق میں جس نے ترک قراءت فاتحہ کی فتویٰ دیا اور پھر اس جستجو میں تھا کہ کوئی اور بھی اہل حدیث سے اس فتویٰ میں میرا شریک ہے یا نہیں مدت کے بعد سنا کہ مولوی محمد حسین صاحب بھی یہی فتویٰ دیا کرتے ہیں۔پھر ایک حنفی سے گفتگو کا اتفاق پڑا تو ان سے پوچھا گیا کہ ہر رکعت میں رکوع کرنے کی آپ لوگوں کے پاس کیا برُہان ہے چونکہ آپ صاحبوں کے نزدیک ہر رکعت میں رکوع کا کرنا فرض ہے اس لئےاَدِلَّہ قَطْعِیَّہ لَاشُبْھَةَ فِیْہَا۔{ FR 5572 } سے ثابت ہونا چاہیئے اِلاَّ انہوں نے اس وقت کوئی دلیل نہ فرمائی۔مجھے امید تھی کہ اگر کوئی ایسی دلیل بیان فرماتے جس سے ہر رکعت میں رکوع کا فرضاً کرنا ثابت ہو جاتا تو اسی ہی دلیل سے ہر رکعت میں فرضاً فاتحہ الکتاب پڑھنے کی بھی دلیل نکل آتی(افسوس) پھر مدت کے بعد سنا کہ شوکانی بھی اسی طرف ہیں۔تھوڑا عرصہ گذرا کہ محض خدا کے فضل سے شوکانی کی نَیلُ الْاَوطار راحت جان اور مزید { FN 5570 } ابن ہمام نے ھدایة کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ اگر ثقہ اکیلا ہو تو بھی اس کا قبول کرنا واجب ہے (اور انہوں نے کہا) ثقہ کی زیادت مقبول ہے۔(فتح القدیر شرح الھدایة لابن الھمام، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة) { FN 5571 } پھرنماز پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔(صحيح البخاری، کتاب الأذان بَابُ وُجُوبِ القِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالمَأْمُومِ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا) { FN 5572 } ایسے قطعی دلائل جن میں کوئی شبہ نہ ہوسکے۔