فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 95
اس کلام میں ھو الحق۔لم یثبت۔و لو صحّ لم یقبلہ اہل العلم‘ امیری المؤمنین عامة اہل الحدیث۔اور یہ کہ جزء القراء ة بخاری سے ہے۔وغیرہ قابل غور ہیں۔پھر وَ اِنَّ مَالِکًا رَجَعَ بھی فراموشی کے قابل نہیں۔ذَہبی نے کاشف میں کہا ہے۔محمد بن إسحاق … رأى أنسا وروى عن عطاء والزهري وطبقة وعنه شعبة والحمادان والسفيانان ويونس بن بكير … كان صدوقا … واختلف في الاحتجاج به وحديثه حسن وقد صححه جماعة۔{ FR 5095 } ابن سید الناس اور منذری نے ابن اسحاق کی نسبت لمبی بحث کی ہے۔فقیر اس میں سے چند فقرے نقل کرتا ہے۔قال (علي) بن المديني: ما رأيت أحدا يتهم (محمد) بن إسحاق۔… وحديثه عندي صحيح، قلت له: فكلام مالك فيه، قال: لم يجالسه ولم يعرفه، وقال الأثرم: سألت أحمد بن حنبل عنه فقال: هو حسن الحديث۔{ FR 5096 } استشهد به مسلم وصحح له الترمذي حديث سهل واحتج به ابن خزيمة في صحيحه۔{ FR 5097 } قال: وأما مالك فإنه كان ذٰلك منه مرة واحدة ثم عاد له إلى ما يحب، وذٰلك لأنه لم يكن بالحجاز أحد أعلم { FN 5095 } محمد بن اسحاق نے حضرت انسؓ کو دیکھا ہے اور عطاء اور زُہری سے روایت کی ہے۔اور ان سے شعبہ، حمادان (یعنی حماد بن زید اور حماد بن سلمہ)، سفیانان (یعنی سفیان بن عیینہ اور سفیان ثوری) اور یونس بن بُکَیر نے روایت کی ہے۔وہ سچے تھے ، لیکن ان (کی روایت) کے حجت ہونے کے متعلق اختلاف کیا گیا ہے۔اور ان کی احادیث حسن ہیں اور ایک جماعت نے انہیں صحیح کا درجہ دیا ہے۔(الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة للذھبی، حرف المیم، محمد بن إسحاق، جزء۲صفحہ۱۵۶) { FN 5096 } علی بن مدینی نے کہا: میں نےمحمد بن اسحاق پر تہمت لگاتے کسی کو نہیں دیکھا۔…… اور میرے نزدیک ان کی روایات صحیح ہیں۔(يعقوب بن شیبہ نے کہا:) میں نے ان سے پوچھا: امام مالک کا ان کے متعلق جو کلام ہے (اس کا کیا معاملہ ہے؟) انہوں نے کہا: امام مالکؒ ان کے ہم جلیس نہیں تھے اور انہیں پہچان نہیں پائے۔اور اثرم نے کہا: میں نے امام احمد بن حنبلؒ سے ان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ حسن حدیث کے راوی ہیں۔(عيون الأثر في فنون المغازي والشمائل والسير لابن سید الناس، ذكر الكلام في محمد بن إسحاق والطعن عليه، جزء۱ صفحہ۱۳ تا ۱۴) { FN 5097 } امام مسلمؒ ان (کے قول) کو بطور شہادت لائے ہیں۔اور امام ترمذیؒ نے حضرت سہلؓ کی حدیث کو ان (کی روایت) سےصحیح قرار دیا ہے۔اور ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں ان (کے قول) سے دلیل قائم کی ہے۔