فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 96 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 96

بأنساب الناس وأيامهم۔من ابن إسحٰق، وكان يزعم أن مالكا من موالي ذي أصبح، وكان مالك يزعم أنه من أنفسها، فوقع بينهما لذلك، … فلما صنّف مالك المؤطا قال ابن إسحق: ائتوني به فأنا بيطاره، فنقل ذلك إلٰى مالك فقال: هذا دجّال من الدَّجَاجِلَة يروى عن اليهود، وكان بينهما ما يكون بين الناس، حتى عزم (محمد) ابن اسحٰق على الخروج إلى العراق، فتصالحا … وأعطاه عند الوداع خمسين دينارًا … ولم ینکر مالک علیہ من أجل الحديث، إنما كان ينكر عليه تتبعه غزوات النبي صلّى الله عليه وسلّم من أولاد اليهود الذين أسلموا وحفظوا قصة خيبر وقريظة والنضير، وما أشبه ذٰلك من الغرائب عن أسلافهم۔وكان (ابن إسحق) يتتبع ذٰلك عنهم ليعلم ذٰلك من غير أن يحتج بهم، وكان مالك لا يروي الرواية إلا عن متقن صدوق۔{ FR 5098 }؂ { FN 5098 }؂ انہوں نے کہا: اور امام مالکؒ جو ہیں تو اُن سے ایسی بات صرف ایک بار ہوئی ہے۔پھر وہ ان کے معاملہ میں پسندیدہ بات کی طرف لَوٹ گئے تھے۔اور (حقیقت) یہ ہے کہ لوگوں کے انساب اور حالات کا عالم حجاز میں ابن اسحاق سے بڑا کوئی نہ تھا۔اور وہ خیال کرتے تھے کہ امام مالکؒ ذوأصبح کے آزاد کردہ غلاموں میں سے ہیں۔اور امام مالکؒ سمجھتے تھے کہ وہ اس کی نسل میں سے ہیں۔اس وجہ سے ان کے درمیان کچھ کشیدگی ہوگئی۔…… پھر جب امام مالکؒ نے مؤطا تصنیف کی تو ابن اسحاق نے کہا: میں اس کا سلوتری(گھوڑوں کا ڈاکٹر) ہوں۔یہ بات امام مالکؒ سے بیان کی گئی تو انہوں نے کہا: یہ تو دجالوں میں سے ایک دجال ہے، یہود سے روایات بیان کرتا ہے۔اور ان دونوں کے درمیان ایسی ہی باتیں تھیں جیسی لوگوں میں ہوجاتی ہیں۔یہاں تک کہ محمد (بن اسحاق) نے عراق کی طرف نکل جانے کا ارادہ کرلیا۔پھر دونوں میں صلح ہوگئی …… اور رُخصت کرتے وقت (امام مالکؒ) نے انہیں پچاس دینار دیئے۔اور امام مالک نے حدیث کی وجہ سے اُن کا عیب بیان نہیں کیا۔وہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کو صرف یہود کے اُن بچوں سے جو مسلمان ہوگئے تھے اور انہوں نے خیبر، قریظہ، نضیر اور ان سے ملتے جلتے مشکل واقعات کو اپنے بڑوں سے یاد رکھا تھا، ٹوہ لیتے ہوئے تلاش کرنے کی وجہ سے ان سے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے تھے۔اور ابن اسحاق تو اِن کو حجت بنائے بغیر اُن سے یہ واقعات اس لیے لیتے تھے تاکہ ان کے متعلق علم ہوجائے۔جبکہ امام مالک تو صرف متقی اور صادق ہی سے روایت لیتے تھے۔(عيون الأثر في فنون المغازي والشمائل والسير لابن سید الناس، ذكر الكلام في محمد بن إسحاق والطعن عليه)