فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 94
ایک عجیب بات عینی خود اسی محمد بن اسحاق سے تعجیل صلوٰة مغرب میں استدلال پکڑ چکا ہے۔وہاں بولا بھی نہیں اور کیوں بولتا مطلب کے موافق بات تھی۔تحقیق حق منظور ہوتی یا تعجیل کا مخالف ہوتا تو ردّکرنے کو ضرور وہاں بھی بولتا ابن ہمام نے بَابُ تَعْجِیْلُ صَلوٰةِ الْمَغْرِبِ میں کہا ہے۔هَذَا إنْ صَحَّ الْحَدِيثُ بِتَوْثِيقِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَهُوَ الْحَقُّ الْأَ بْلَجُ، وَمَا نُقِلَ عَنْ مَالِكٍ فِيْهِ لَا يَثْبُتُ، وَلَوْ صَحَّ لَمْ يَقْبَلْهُ أَهْلُ الْعِلْمِ، كَيْفَ وَقَدْ قَالَ شُعْبَةُ وَهُوَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحَدِيثِ۔وَرَوَى عَنْهُ مِثْلُ الثَّوْرِيِّ وَابْنُ إدْرِيسَ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْـــعٍ وَابْنُ عُلَيَّةَ وَعَبْدُ الْوَارِثِ وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَاحْتَمَلَهٗ أَحْمَدُ وَابْنُ مُعِيْنٍ وَعَامَّةُ أَهْلِ الْـحَدِيْثِ غَفَرَ اللهُ لَهُمْ، وَقَدْ أَطَالَ الْبُخَارِيُّ فِيْ تَوْثِيْقِهٖ فِيْ كِتَابِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ لَهٗ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حَبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَأَنَّ مَالِكًا رَجَعَ عَنِ الْكَلَامِ فِي ابْنِ إِسْحَاقَ وَاصْطَلَحَ مَعَهٗ وَبَعَثَ إِلَيْهِ هَدِيَّةً ذَكَرَهَا۔اِنْتَہٰی۔{ FR 4676 } { FN 4676 } اگر یہ حدیث صحیح ہے تو ابن اسحاق کی ثقاہت سے ہے اور یہ ایک کھلا سچ ہے۔اور امام مالک سے ان کے متعلق جو نقل کیا گیا ہے وہ ثابت نہیں ہوتا۔اور اگر وہ صحیح ہوتا تو اہل علم انہیں قبول نہ کرتے۔(ان پر جرح کرنا) کیسے (درست) ہوسکتا ہے جبکہ شعبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ حدیث میں امیر المؤمنین ہیں۔اور ثوری، ابن ادریس، حماد بن زید، یزید بن زُرَیع، ابن علیہ، عبد الوارث اور ابن مبارک جیسے (علماء) نے ان سے روایت کی ہے۔اور امام احمد بن حنبل، (یحيٰ) بن معین اور اکثر اہل حدیث اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے، نے ان (سے روایت لینے) کو جائز سمجھا ہے۔اور امام بخاریؒ اپنی کتاب ’’القراءة خلف الامام‘‘ میں ان کے ثقہ ہونے کے متعلق مفصل بیان کرچکے ہیں۔اور ابن حباّن نے (اپنی تصنیف) الثقات میں ان کا ذکر کیا ہے۔اور امام مالک نے ابن اسحاق کے خلاف تبصرہ کرنے سے رجوع کر لیا تھا اور ان سے صلح کرلی تھی اور ان کی طرف تحفہ بھی بھیجا تھا جس کا انہوں نے ذکر کیا ہے۔(فتح القدير لابن الهمام، کتاب الصلاة، باب المواقیت، قَوْلُهٗ وَيُسْتَحَبُّ تَعْجِيْلُ الْمَغْرِبِ، جزء۱ صفحه۲۲۸)