فیشن پرستی

by Other Authors

Page 7 of 30

فیشن پرستی — Page 7

یہی مضمون ایک دوسرے راوی نے یوں بیان کیا ہے: مثلاً کوئی مسلمان ہندوؤں کی طرح بودی وغیرہ رکھ لیوے تو اگر چہ قرآن اور حدیث میں اس کا کہیں ذکر صریح نہیں ہے مگر چونکہ کفار سے اس میں مشابہت پائی جاتی ہے اس لئے اس سے پر ہیز چاہئے۔“ نیز فرمایا: ( ملفوظات جلد سوم مطبوعہ 2003 صفحہ 246 حاشیہ ) انسان کو جیسے باطن میں اسلام دکھانا چاہئے ویسے ہی ظاہر میں بھی دکھلانا چاہئے۔جو شخص ایک قوم کے لباس کو پسند کرتا ہے تو پھر وہ آہستہ آہستہ اس قوم کو اور پھر ان کے دوسرے اوضاع و اطوارحتی کہ مذہب کو بھی پسند کرنے لگتا ہے اسلام نے سادگی کو پسند کیا ہے اور تکلفات سے نفرت کی ہے کیونکہ پھر آہستہ آہستہ انسان کی نوبت تنتبع کی یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ ان کی طرح طہارت کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم مطبوعہ 1984 لندن صفحه 387) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: و جس نے عاجزی اور انکساری کی وجہ سے عمدہ لباس ترک کیا حالانکہ وہ اس کی استطاعت رکھتا ہے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اختیار دے گا کہ ایمان کی پوشاکوں میں سے جو پوشاک چاہے پہن لے۔“ حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں : (ترمذیى كتاب الصفة القيامة) ہر کام کے لئے ایک لباس ہے۔گھوڑے کی سواری کا لباس ہے۔7