فیشن پرستی — Page 6
خير طرح ان کے سر ہوتے ہیں۔ان میں سے کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگی اور اس کی خوشبو تک نہ پائے گی حالانکہ اس کی خوشبو بہت دور سے آسکتی ہے۔“ (مسلم کتاب اللباس باب النساء الكاسيات العاريات ) لباس کے بارہ میں قرآن کریم کی تعلیم یہ ہے کہ لباس التـــــوى ذالک تقویٰ کا لباس اگر انسان اوڑھ لے تو وہ سب سے زیادہ بہتر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک دوست نے سوال کیا کہ ہندوؤں والی دھوتی باندھنی جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا: تشبیہ بالکفار تو کسی رنگ میں بھی جائز نہیں۔اب ہندو ماتھے پر ایک ٹیکہ سالگاتے ہیں کوئی وہ بھی لگالے۔یاسر پر بال تو ہر ایک کے ہوتے ہیں مگر چند بال بودی کی شکل میں ہندور رکھتے ہیں اگر کوئی ویسے ہی رکھ لیوے تو یہ ہرگز جائز نہیں۔مسلمانوں کو اپنی ہر ایک چال میں وضع قطع میں غیرت مندانہ چال رکھنی چاہئے۔ہاں البتہ اگر کسی کو کوئی نئی ضرورت در پیش آئے تو اسے چاہئے کہ ان میں سے ایسی چیز کو اختیار کرے جو کفار سے تشبیہ نہ رکھتی ہو۔اور اسلامی لباس سے نزدیک تر ہو۔جب ایک شخص اقرار کرتا ہے کہ میں ایمان لایا تو پھر اس کے بعد وہ ڈرتا کس چیز سے اور وہ کون سی چیز ہے جس کی خواہش اب اس کے دل میں باقی رہ گئی ہے کیا کفار کی رسوم اور عادات کی؟ اب اسے ڈر چاہئے تو خدا کا۔اتباع چاہئے تو محمد رسول اللہ ﷺ کی کسی ادنیٰ سے گناہ کو خفیف نہ جاننا چاہئے بلکہ صغیرہ ہی سے کبیرہ بن جاتے ہیں اور صغیرہ ہی کا اصرار کبیرہ ہے۔“ ( ملفوظات جلد سوم مطبوعہ 2003 صفحہ 247-246) 6