فیشن پرستی

by Other Authors

Page 8 of 30

فیشن پرستی — Page 8

ایک سوگز دوڑ کا لباس ہے۔مسجد میں آنے کا لباس ہے۔گھر کا بھی ایک لباس ہے لیکن ایک لباس مسلمان کا ہے اور مسلمان کالباس ہے لباس التقویٰ۔اور ایک مسلمان کی ساری بھلائی اس لباس میں ہے۔۔لیکن ایک ایسا لباس ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور وہ تقویٰ کا لباس ہے۔یہ نہیں کہ کبھی تقویٰ کا لباس اوڑھا ہوا ہے اور اس سے نور کی شعاعیں باہر نکل رہی ہیں اور کبھی شیطان کا دامن اپنے گرد لپیٹ لیا ہے اور ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا ہے۔مشعل راه جلد دوم مطبوعہ 2006 انڈیا صفحہ 280) ہمارے پیارے امام حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العز یز لباس اور فیشن کے طور پر جو لباس بنایا جاتا ہے اس کے بارے میں فرماتے ہیں : اب دیکھیں کہ آج کل بھی شادی بیاہوں میں صرف ایک دو دفعہ پہننے کے لئے دلہن کے لئے یا دولہا کے لئے بھی اور رشتہ داروں کے لئے بھی کتنے مہنگے جوڑے بنوائے جاتے ہیں جو ہزاروں میں بلکہ لاکھوں میں چلے جاتے ہیں۔صرف دکھانے کے لئے کہ ہمارے جہیز میں اتنے مہنگے مہنگے جوڑے ہیں یا اتنے قیمتی جوڑے ہیں یا ہم نے اتنا قیمتی جوڑا پہنا ہوا ہے۔صرف فخر اور دکھاوا ہوتا ہے۔کیونکہ پہلے تو یہ ہوتا تھا پرانے زمانے میں کہ قیمتی جوڑا ہے تو آئندہ وہ کام بھی آجاتا تھا۔کام سُچا ہوتا تھا اچھا ہوتا تھا پھر اب تو وہ بھی نہیں رہا کہ جو اگلی نسلوں میں یا اگلے بچوں کے کام میں آجائیں ایسے کپڑے یونہی ضائع ہو جاتے ہیں۔ضائع ہورہے ہوتے ہیں۔پھر فیشن کے پیچھے چل کر دکھاوے اور فخر کے اظہار کی رو میں بہہ کر قرآن کریم کے اس حکم کی 8