فیشن پرستی — Page 21
چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ اپنی اقدار کا لحاظ رکھا جائے اور خدا کی ناراضگی اور قہر کو بھڑ کانے والی کوئی حرکت سرزد نہ ہو۔بیوٹی پارلروں کا فیشن: آج کل ایک شکل فیشن کی بیوٹی پارلروں کی بھی نکل آئی ہے پہلے صرف عورتوں کے لئے تھی اب مرد بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں۔شادی بیاہ ہو ، نکاح ہو یا منگنی جیسی رسم ہو۔دولہا دلہن بیوٹی پارلروں سے تیار ہو کر آتے ہیں۔جس سے نہ صرف یہ کہ وقت کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ پیسے کی بربادی بھی بہت ہوتی ہے اور حاصل کچھ بھی نہیں ہوتا۔چند گھنٹوں میں اتنا وقت اور پیسہ برباد جاتا ہے کہ الامان۔یہی رو پید اگر کسی غریب کو دے دیا جائے یا کسی اور نیک مقصد میں خرچ ہو تو کتنا ثواب ہو اور کتنی دعائیں ملیں۔الغرض ان تمام فیشنوں اور رسم و رواج کو ترک کرنا ضروری ہے یہ سب شیطانی راہیں ہیں خدا سے دور لے جانے والی۔خدا کو ناراض کرنے والی اور وقت ، روپیہ پیسہ برباد کرنے والی اور جن سے سوائے گناہ ، حسرت و یاس اور پچھتاوے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔بد رسوم کو ترک کرنے کے لئے ایک مضبوط عزم وارادہ کی ضرورت ہے اور یہی دراصل جہاد کبر ہے جو اپنی اصلاح کا جہاد ہے۔اس جہاد کا اعلان کرتے ہوئے حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں ہر گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور ہر گھرانے کو مخاطب کر کے بد رسوم کے خلاف اعلان جہاد کرتا ہوں اور جو احمدی گھرانہ بھی آج کے بعد ان چیزوں سے پر ہیز نہیں کرے گا اور ہماری اصلاحی کوششوں کے باوجود اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہوگا وہ یہ یادر کھے کہ خدا اور اس کے رسول اور اس 21