فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 43 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 43

ما مَا لَكُمْ مِنْ أَجْرٍ فَهُوَ لكمان أجرى الا على الله سُورۃ سبا - سیپارہ ۲۲ ہادی اسلام کو مدینے میں یہودیوں کے اموال سے جس کا ذکر جہاد میں میں نے کیا ہے۔کچھ مال ہاتھ آیا۔وہ مسلمانوں کے لشکریوں کی فتوحات سے نہ تھا۔اس مال کی نسبت سورہ حشر سی پارہ ۲۸ میں حکم ہوتا ہے۔یہ حال تمہی ضرورت اور نبوی احتیاجوں اور رشتہ داروں کے لئے۔اور یتیموں مسکینوں مسافروں کی واسطے ہے۔یہ مال مہاجروں اور انصاروں اور اُن سے پیچھے آنے والے لوگوں کا ہے۔جو پہلوں کے تق میں دُعائیں کرتے اور تیرا نہیں بولتے۔پھر خاص حصہ نبوی کی نسبت بجناب رسالتمآب فرماتے ہیں۔نُورَت مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ تارک الدنیا فرودگی بنی اسرائیل اور انکے گھرانے کا خاتم حضرت سی زکوۃ کی نسبت کیا فرماتے ہیں۔مال اپنے لئے آسمان پر جمع کر جہاں کیڑا نہ مورچہ خراب کرے۔نہ پور سیندھ دے۔جہاں مال ہے۔وہاں دل ہے۔منتی ۶ باب ۲۰ د ۲۱۔ایک دولتمند نے حضور کے پاس رہنا اور خدائی بادشاہت میں داخل ہونا چاہا۔اُسے حکم دیتے ہیں۔تمام مال و اسباب دے ڈال تب میرے ساتھ رہ۔متی ۱۹ باب ۱۶ - ۲۱۔وہ بیچاره با وجود شوق داخل نہ ہوسکا۔انسانی فطری کمزوری نے روک لیا۔غور کرو۔کیا تمام لوگوں کے ایسے حوصلے ہوتے ہیں جیسی مسیح کی خواہش ہے۔جو کل کی فکر آج کرے جسب تعلیم مسیح۔۔۔پنجاد ہے۔تعجب ہے۔اتنے بڑے دولتمند اور بادشاہ عیسائی جو برسوں کا فکر آج کر رہے ہیں۔کیسے انہی بادشاہت میں داخل ہونگے۔اونٹ کا سوئی کے ناکے سے نکلنا آسان اور اے جو میں نے تجھ سے مانگا کچھ بیگ۔سو تمہیں کو پہنچے میرا نینگ ہے اسی اللہ پر لا تلے ہمارے ترکہ کا کوئی وارث نہیں کیونکہ وہ صدقہ ہے " میسج اور نہ کوہ۔