فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 42 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 42

۴۲ قلوبهم و في الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً من الله - سوره توبه - سیپاره ۱۰ رکوع ۱۴ - مان محمد صاحب کی قوم بنو ہاشم پر زکوۃ اور صدقہ حرام ہے۔انکو جائز نہیں کہ ان مشتری پور چندوں سے کچھ لیں۔گو کیسے ہی غریب اور مسکین کیوں نہ ہوں منصفو ! یہ استثنا بھی قابل غور ہے۔امام حسین رضی اللہ عنہ بچے تھے۔تو آپنے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اُٹھائی اور چاہا کہ منہ میں ڈالیں۔جناب رسالتماب نے منع فرمایا اور منہ سے نکلوا دی۔مقابلہ یہودی شریعت کے رو سے ایسے چند سے خاص لادیوں ( قوم موسی و ہارون) کا حق۔یا مسکن کے خوج تھے۔ثبوت سنو۔ہدایا مسکن کے لئے۔سونا۔سونے کے برتن - بڑے مینڈھے۔بیل- بخور گفتی ، باب ۱۱ و ۱۸ باب ۸ و ۳۵ باب ۲ - گھر کے لئے سال میسال ثلث مثقال تخمیناً ه باب ۳۲ - آدمی پیچھے پانچ مشتعمال یہ قدیم ہارون اور اسکی اولاد کے لئے گفتی ہم باب دوم خروج ۳۰ باب ۱۳ - ۲۶ - ۲ - تاریخ ۲۴ باب ۹۶ - کاہنوں کے حقوق شانہ کنپٹی۔جھوجھ۔پہلا غلہ۔پہلی شراب (یہ بھی صدقات میں ہے) پہلا تیل۔پہلی اون کیونکہ وہ برگزیدہ ہیں۔استثناء ۱۸ باب ۳ - رومن کیتھولک اور آریہ کے ایسے چند سے پاپا اور برہمنوں کے لئے ہیں۔ا مقابلہ - ہادی اسلام کو اسی واسطے قرآن عہدہ کہانت سے الگ کرتا ہو۔اور کہتا ہے۔إنه لَقَولُ رَسُول كريم وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ وَلا بِقَوْلِ كَاهِبِ قَلِيلا ما تذكرون - سورة الحاقة - سيپاره ۲۹ - اور ہادی السلام علیہ الصلوۃ والسّلام فرماتے ہیں۔ہ یہ بات ہے ایک پیغام لانے والے سردار کی اور نہیں یہ بات کسی شاعر کی تم تھوڑا یقین کرتے۔اور نہ یہ بات کا ہن کی تم تھوڑا دھیان کرتے ہو دو میں شراب بھی صدقات میں داخل ہو۔