فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 41
۴۱ قوم جود تذکار سے دور نہیں ہوتا۔قانون قدرت میں محسوسات میں زنگ زدہ اشیاء ایک دفعہ کے مصقلہ پھیرنے سے روشن اور چمکدار نہیں ہوتیں۔سورۂ فاتحہ بھی بڑی بڑی روحانی بیماریوں کے زنگ کا مصقلہ تھی۔اسی واسطے ایک نماز میں کئی بار پڑھی جاتی ہے۔بتاؤ کون قوم ہے جو مناروں پر چڑھ کر بلند آواز سے کمال دلیری اور جوش سے اپنے معبد اور نہایت ہی بڑائی والے خدا کی عظمت اور اسکے معبود ہونے کی شہادت دے اور اپنے محسن ہادی کی رسالت پر شہادت دے۔پانچ وقت سریر الفاظ سے اللہ تعالی کی عبارت کی طرف بڑی بلند آواز سے مناسے پر چڑھ کر بلاو۔اور اپنی عبادت کی خوبی بتا ہے۔اور پھر اپنی اس منادی کوخدا کی مالی تعظیم ختم کرے۔سوچو یہی معنی کلمات اذان کے ہیں۔ہاں ہادی اسلام نے قوم کو کھنٹوں بیٹیوں نا قوری ہیں۔سارنگیوں۔بربطوں سے قوم کو معافی بخشی۔بلکہ یوں کہیئے بچا لیا۔فائدہ۔وقت پر یاد آیا۔یہ اصلاحی ہی مذہب کی خصوصیت ہے کہ اپنی ہر ایک کتاب کی ابتداء میں اپنے خالق کی ستائش کریں اپنے محسن کی تعریف کریں۔اس کے لئے دُعائیں مانگیں۔لکھوں کی ابتداء میں یہی حال ہے آنکھ کا ترجمہ خطبہ ہے، بلکہ کھر کی خوبی بھی اسلامیوں پرختم ہے۔کھڑے ہوکر لکچر دینا تو اُن کی ہر نماز جمعہ میں دیکھ لو۔گرغور کے قابل یہ ہو کہ عین لکچر میں جہاں اور قوموں کو تالی بجانے کا موقع ملتا ہے وہاں اسلام میں اللہ اکبر اور سبحان اللہ موزوں ہے۔توجہ الی القبیلہ کا تذکرہ بحث حج اور مفصل بحث نماز میں ہے۔اسلامی تیسری اصل زکوۃ ہے۔زکوتہ کیا ہے۔ایک قومی اور مشنری چندہ ہے جس میں سوائے خاص مصرفوں کے تین نفس کی خصوصیت نہیں۔زکوۃ اور اور صدقات کن لوگوں کے لئے ہیں۔دیکھو قرآن۔إنما الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَة ات بومی و مفلسی کا ہو میت جوں کا اور اس کام پرجانیوالوں کا۔اور جن کابل و چاتا ہو۔اور گردن چھوٹا نے میں۔(غلاموں اور قیدیوں کا چھوڑانا، اور جوتا ان بھریں اورال کی راہ میں اور ان کے مسافر کو ٹھہرا دیا اللہ کایا