فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 40
۴۰ ایک طرف عرب کی اس خطرناک بت پرستی کو دیکھو جو قبل از اسلام تھی اور ایک طرف اس تیرہ سو برس کی خالص توحید کو دیکھو۔پھر بتاؤ کسی قوم میں اتنی دیر تک اس طرح على العموم تو محفوظ رہی ہے۔اگر نہیں تو اس کلمہ توحید کا آخری جزو بے دیں سخت معجزہ اور خرق عادت ہو گیا۔اسلامی دوسری اصل نماز ہر نماز کی بابت مفصل بحث علیحدہ اسمی کتاب میں موجود ہے؟ نماز کیا ہے۔خدا سے دلی نیاز۔اور یہ عبادت تمام مذاہب میں اصل عبادت ہے۔اور کچھ شک نہیں دلی جوشوں کا اثر ظاہری حرکات اور سکنات پر ضرور پڑھتا ہو اور ظاہر حرکات و سکنات کی تاثیر قلب پر ضرور پہنچتی ہے۔باریتعالی ہی کے دست قدرت میں محبوس رہنے کا ثبوت اور اسکی بارگاہ میں بجمال ادب حاضر ہونے کا بیان اگر ہمارے اعضا کر سکتے ہیں۔تو نماز کا قیام اور نماز میں ہاتھ باندھنا بے شک عمدہ نشان ہیں۔دلی عجز وانکسار غایت درجے کا تذلل اگر کوئی ظاہری نشان رکھتا ہے۔تو حالت رکوع وسجدہ ہرگز کم نہیں۔اسلامی نماز میں جو کلمات ہیں۔ان میں صرف باری تعالٰی کا معبود ہونا۔اور اس کی رحمت عامہ اور ناقہ اور سزا اور جزا کا بیان ہے۔پھر اسی مالک کی معبودیت کا اقرار اور اُسی کی امداد کا اعتراف ہے۔پھر نمازی اپنے اور تمام لوگوں کے لئے راہ راست پر چلنے کی دعا مانگتا ہے۔اور بارگاہ حق میں عرض کرتا ہے مجھے ایسے لوگوں کی راہ دکھا جنیر تیر افضل ہے۔اور اُن بڑوں کی راہ سے بچا۔جن پر الہی تیرا غضب ہے۔یا جو لوگ راہ سے بہک گئے۔پھر کچھ الہی تعریف کے الفاظ ہیں۔پھر تمام نیک لوگوں کے لئے دعا ہے۔پھر واعظ توحید ابراہیم راستباز پر جو تمام بنی اسرائیل پر اور بنی اسمعیل کے مورث اعلیٰ ہیں اور جن کی اولاد میں محمد صاحب بھی ہیں اور محمصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعا ہے۔کیونکہ اُن کی مساعی جمیلہ سے شرک کا بڑا استیصال ہوا۔اور توحید نے عروج پایا۔پھر اپنے لیے دُعا ہے۔انسان کا خاصہ ہے اُس کے دل پر کسی واعظ کی نصیحت کا اثر ایک ہی بار کچھ نہیں پڑتا۔انسان کے دل کا زنگ جو اسے محسوسات میں لگائے رکھنے سے پیدا ہو جاتا ہے۔ایک دفعہ کے اسلامی نوکری اصل وارات بنات ست