فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 435 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 435

۴۳۵ دانیال اپنی کو ٹھری کا دریچہ ہو یروشلم کی طرف تھا۔کھول کر دن میں تین دفعہ گھٹنے ٹیک کر اور داؤ د بیت ایل کی طرف خدا کے حضور دعا اور شکر گذاری کرتے رہے۔دانیال و بات زیور ۹۹-۹ اور زیور ۲۰۱۳۸ حجر اسود کیا ہے۔ایک من گھڑا پتھر ہے چونکہ گڑے ہوئے پتھروں کی عبادت ہوتی تھی اس واسطے ابراہیم اور ان کی اولاد نے یادگار یانشان کے لئے بنی گھڑے تھر رکھے تھے پیدائش ۲۸ باب ۱۸- یعقوب نے پتھر کھڑا کیا۔اور اس پترنسیل ڈالا۔اور پیدائش ۳۵ باب ۱۵- اور رشوع م باب ۵-۶- ہر ایک تم میں سے بنی اسرائیل کے فرقوں کے مطابق ایک ایک اپنے کاندھے پر رکھے۔تو کہ تمہارے درمیان نشان ہو۔پادری ان باتوں سے انکار نہیں کر سکتے۔پرانے زمانے میں کیا اس زمانے میں بھی تصویری زبان کا رواج ہے۔اکثر آریہ ورت کے قصص تصویری زبان میں ہیں۔اور کئی اخباروں میں تصویری زبان معمول ہے۔سکند را در دارا کے قصے میں تصویری زبان کی کنکور مشہور ہے۔عیسائی بھی تسلیم کرتے ہیں پیشوں کے بارہ پتھورا حواریوں کا اشارہ جانتے ہیں۔یہودی قربانیان مسیح بڑے کی پھانسی بتاتے ہیں۔بلکہ ختنہ بھی نیسے ابن مریم کے قتل کا نشان کہتے ہیں پولا ملانا جس کی نسبت احبار ۲۳ باب ، ہمیں حکم ہے مسیح کا جی اٹھنا بیان کرتے ہیں۔میں کہتا ہوں میتی ۲۱ باب ۳۳ ۴۲ میں لکھا ہے۔بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے آباد کیا۔ایک باغ کا مہتم بنایا ایک شرع کا مگر انہوں نے نافرمانی کی یہاں تک کہ اپنے آخری صلح کار اکلوتے بیٹے) کو مار ڈالا۔اس لئے خدا ان کو سزا دے گا۔کونے کے پتھر سے بے معماروں نے نا پسند کیا یہی مضمون سیحیا ۲۰ باب ۱۶ میں ہے اور دانیال ۲ باب ۳۴ میں ہے۔یہود غیر قوموں کو بھی پتھر کہتے تھے۔اور ہمیشہ بنی اسمعیل کو یہ معمار قوم حقیر جانتے تھے۔الاعرب میں قدیم سے اس لئے کہ وہ ان پڑھ قوم تھی تصویری زبان میں بطور پیشین گوئی اور بشارت کے سی سیم یا ۲۸ بائی۔اور منتی ۲۱ باب ۲ہ اور دانیال ۲ باب ۳۴ اللہ کلام کے ہیں اس طرح سے