فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 436 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 436

لهم تحریر ہو کہ بیت اللہ کے کونے پر ایک بن گھڑا پتھر نصب کیا گیا ہے جس کے ساتھ یہ بات کیجاتی تھی کہ اُسے صرف ہاتھ لگاتے جو بیعت اور اقرار کا نشان ہے۔مطلب یہ کہ اس پاک شہر میں وہ کونے کا پتھر ہوگا جس کے ہاتھ پر بیعت کرنا ضرور ہے جو کوئی اس پر گرے گا چور ہو گا جس پر یہ گیرا اُسے پیس ڈالے گا یحسب بیاین دانیال ۲ باب بابل کا حال دیکھ لو۔نادان کہتے ہیں مسلمان تھر کی پرستش کرتے ہیں۔آریہ اور عیسائی بتائیں عبادت کسے کہتے ہیں۔عبادت میں اتنی حمد اور تعریف۔پرارتھنا۔یعنے دیا۔اور اُپاشنا یعنی دھیان ضرور ہے بتائیں مسلمان کب اُس پتھر کی تعریف اور اُس سے دُعا اور اس کا دھیان کرتے ہیں۔اسلامی کسی عبادت میں اس پتھر کا ذکر بھی نہیں۔بلکہ عبادات اسلامیہ میں تو سکے کا ذکر بھی نہیں۔اس کی عبادت کیا ہوگی۔اگر اس کو ہاتھ لگانا۔یا چومنا عبادت ہے۔تو سب لوگ بہا ہی ہوئی عورتوں کے عابد اور خدا کو سجدہ کرنے والے زمین کے پجاری ہوں گے۔بات یہ ہے کہ مقدس مقام میں تصویری زبان کے اندر یہ گفتگو ہے کہ نبوت کی پاک محل سرا میں کونے کا پتھر بیاں سکے سے نکلے گا۔بلکہ مسیح نے منتی ۲۱ باب ۳۳ میں خود کہا ہے کہ یہ تمثیل ہے انتہے۔نفس وجود کعبہ اور بیت اللہ کا ثبوت پیدائش ۱۲ باب ---- ابراہیم نے خداوند کے لئے کنعان میں ایک قربان گاہ بنائی اور وہاں سے روانہ ہو کے اُسنی بیت ایل کے پورب ایک پہاڑ کے پائیں اپنا ڈیرہ کھڑا کی۔بیت ایل اس کے پچھم اور علی اس کے پورب تھا۔اور وہاں اس نے خدا کے لئے ایک قربانگاہ بنائی اور خداوند کا نام لیا۔اور ابرام رفتہ رفتہ دکھن کی طرف گیا۔یہاں حبس بیت ایل کا تذکرہ ہے۔وہ سرور مکہ ہی ہے۔کیونکہ کنعان عرب کے حدود میں ہے۔اور لکھا ہے قربانگاہ بنا کے جب روانہ ہوا۔پھر ایک جگہ ڈیرا لگایا۔اور وہاں دوسرا قر با نگاہ بنایا۔اور اس کے پھر ایک سائیں کا بیان کیا۔جو بیت ایل سمندری ہے۔یم سمندر کو کہتے ہیں اور وہاں لفظ بیت اہل یم ہے۔اور