فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 385
۳۵ کے خلاف کا کفر معاف نہ ہو گا ہے دوسری قسم گناہوں کی وہ کبائر اور بڑے بڑے گناہ جو شرک کے نیچے ہیں اور صغائر یا مبادی کبائر سے اوپر۔اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ ہر ایک کبیرہ اور بڑے گناہ کی ابتداء میں چھوٹے چھوٹے گناہ ہو اس کبیرہ سے کم ہیں ہوتے ہیں۔مثلاً جو شخص زنا کا مرتکب ہوا۔ضرور ہو کہ ارتکاب زنا سے پہلے وہ اُس نظر بازی کا مرتکب ہو جس سے زنا کے ارتکاب تک نوبت پہنچی۔یا ابتداء وہ باتیں سنیں جنکے باعث اس بدکاری کے ارتکاب تک، اس نہ ناکننده کی نوبت پہنچی۔ایسے ہی ان باتوں کا ارتکاب جنکے وسیلے سے اسکو و شخص ملا۔جیسے زانی نے زنا کیا۔اور بالکل ظاہر ہے کہ ان ابتدائی کارروائیوں کی برائی زنا کی برائی سے ضرور کی پر ہے۔ایسے کار اور بڑے گناہوں کی نسبت قرآن کریم فرماتا ہے۔أن تجتنبوا كبَائِرَ مَا تُنهون عنهُ نُكَرٌ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُم سياره سُوره نساء ركوع - کیا معنی جن بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب سے تم لوگ منع کئے گئے۔اگر ان بڑے گناہوں سے بچے رہو۔تو اُن کے مبادی اور اُن کے حصول کی ابتدائی کاروائی صرف ان بڑے گنا ہوں سے بچ رہنے کے باعث معاف ہوسکتی ہے۔مثلاً کسی شخص نے کسی ایسی عورت سے جماع کرنا چاہا جو اس کے نکاح میں نہیں اور اس عورت کے بلانے پر کسی کو ترغیب دی۔یا کچھ مال خرچ کیا اور اسے خالی مکان میں لایا۔! اُسے دیکھا۔بلکہ اُس کا بوسہ بھی لے لیا۔لیکن جب وہ دونوں برضا و رغبت بُرائی کے ان قرآن مجید کی تقدیر و تشہیر بر خلاف توریت و انجیل کی افراط و تفریط کے ٹھیک انسان کی حالت امید و بیم کے مناسب ہے جو بحسب فطرت اس کی جبلت میں مرکوز ہے۔کیا ہی عجب آیت قرآن کی ہے نبی عبادی آنی انا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَإِنَّ عَذَ الى هُوَ الْعَذَابُ الوَلِيدُه سیپاره -۱۴ سوره حجر - ركوع ترجمد ی خبر سنادے میرے بندوں کو کہ میں اصل بخشنے والا مہربان ہوں اور یہ بھی کہ میری مار ہی دکھ کی مار ہے سے اگر تم بیچتے رہو گے بڑی چیزوں سے جو تم کو منع ہوئیں تو ہم اُتار دینگے تم سے تقصیر میں تمہاری ۱۴