فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 384 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 384

دوزخ سے اللہ کے فضل سے بچے۔دو قهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمَ فَضْلاً مِن تربك - سیپاره ۲۵ سوره دخان رکوع - اور سورہ حدید میں ہے۔لامن سابقوا إلى مَغْفِرَ و من ربكم وجنة عرضها لعرض السماوة الأرمن أعدت وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ وَ اللهُ ذُوا الْفَضْلِ العظيمه سیپاره -۲۷ - سوره حدید - رکوع ۳ - ن يطيع الله والرسول فأولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ والصَّدِيقِينَ وَالشُّهَلَ ارَ وَالصَّلِحِينَ ، وَحَسَنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا، ذَلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللهِ وَكَفَى بِاللهِ عَلِيماه سیپاره د سورۀ نساء - رکوع ۹- قرآن بیان کرتا ہے گناہ تین قسم کے ہوتے ہیں۔اول شرک۔قوم کیا کر بسام ضفائر شرک کی نسبت قرآن کریم فیصلہ دیتا ہے کہ وہ ہرگز بدوں تو بہ معاف نہ ہو گا۔اس کی سزا يَغْفِرُ بھگتنی ضرور ہے۔ان الله لا يغفر أن يشرك به وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذلك سياره - سوره نساء رو - ربوع انجیل بھی با اینکہ بڑی بشارت اور نبیشر ہے۔فرماتی ہے۔متی ۱۲ باراستے روح ملے اور بپا یا اُن کو دوزخ کی مار سے فضل سے تیرے رب کے ۱۲ سے دوڑو اپنے رب کی معافی کی طرف اور بہشت کو جس کا پھیلاؤ ہے جیسے پھیلاؤ آسمان اور زمین کا۔رکھی گئی ہے اُن کے واسطے جو یقین لائے اللہ پر۔اور آر کے رسولوں پر یہ بڑائی اللہ کی ہے۔دیو سے اس کو جس کو چاہے۔اور اللہ کا فضل بڑا ہے ۱۲ اور جو لوگ چلتے ہی حکم میں الہ کے اور رسول کے سوائے انکے ساتھ میں جنکو اللہ نے نوازا نہیں اور صدیق اور شہید اور نیک بخت اور خوب ہے اُن کی رفاقت - فیضل ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ بس ہے خبر رکھنے والا۱۳ له الله یہ نہیں بخشتا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جاوے اور اس سے نیچے بخشتا ہے ؟