فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 386 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 386

ہونے لگے۔اور کوئی چیز روک اور بار کاری کی مانع وہاں نہ رہی اور اس بد کارروائی آخری بد نتیجہ بھی ظاہر نہ ہوا تھا۔کہ اس زمانی کے ایمان نے آکر اسے زنا سے روک دیا۔اب پتی شخص یا این که مال خرچ کر چکا ہے۔یا ثانی کی رضامندی پاسکا۔صرف ایمان کے باعث ہاں صرف ایمان ہی کے باعث اور خدا سے با ہمہ وسعت و طاقت اس بڑی برائی کے ارتکاب سے ہٹ گیا۔اور اس کا مرتکب نہ ہوا۔تو صرف اسی اجتناب سے اس کی ابتدائی کاروائیاں جو حقیقت میں مبادی گنا، اور گناہ کی محرک تھیں۔معان ہو جائینگی۔کیونکہ اس کا ایمان بڑا تھا جس نے آخری حالت میں خدا کے فضل سے دستگیری کی۔اور تیسری قسم گناہ کی صفا ئر ہیں۔جن کا ذکر کبائر میں ضمناً آ گیا۔ناظرین انجات صرف رحم اور فضل سے ہیر اور رحم اور فضل کا ستحق ایماندار ہیں۔ان رَحْمَةُ اللهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسنين، سياره - سوره اعراف۔كوم - اور ایمان کے پھل نیک اعمال ہیں۔پس کل اعتمال یا اکثر اعمال اگر عمدہ ہیں تومعلوم ہوا۔کہ ان عمدہ اعمال کے عامل کا ایمان بڑا اور قومی تھا۔جب ایک نان بڑا اور قومی ہوا۔تو بہت بڑے فضل کا جاذب ہوگا۔اور اگر نیک اعمال کے ساتھ تیسری قسم کے چھوٹے بد اعمال یا چھوٹے بڑے دونوں قسم کے بُرے اعمال مل گئے تو ظاہر ہے کہ ایسے شخص کے ایمان میں مد مقابل کچھ کر بھی ہو جس کے بد ثمرات یہ معاصی جھوٹے اور بڑے ہیں۔کیونکہ ایمان کا پھل تو یہ بد اعمال ہو نہیں سکتے۔پھر لا محالہ کفر سے یہ ثمرات ہونگے۔گو وہ پھوٹا ہی کفر کیوں نہ ہو۔اور کفر فضل کا جاذب نہیں۔بلکہ فضل کو روکتا ہے۔جیسے اندھیری کوٹھڑی کی دیواریں اور چھت سورج کی روشنی کو روکتی ہیں۔پس ایسے شخص میں ضرور جنت اور نجات کے اسباب اور فضل کے کھینچنے اور لینے کے ایسے اور ذریعے دوزخ میں جانے کے اسباب اور بہشت پنجات میں جانے کی روکیں مل جائیں گی۔اد بے شک مہر اشہ کی نزدیک سے نیکی دالوں سے ہو۔