فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 31 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 31

Fi مقابلہ عیسائی مذہب ہے اعلیٰ درجے پر ہے۔انصاف کرو۔عیسائیوں کے صرف لسانی اور کتابی اقرار کی کیا قدر کی جاوے۔جب وہ اُسکے ساتھ مسیح بن مریم جیسے خاکسار بندے کے سر پہ الوہیت کا تاج دعا یقین کرتے ہیں اگر وہ کہیں سے کوئی علیحدہ اللہ نہیں۔بلکہ اسی اللہ علق زمین و آسمان جامع صفات کا ملہ تمام نقائص سے منزہ نے جب جسم کو قبول فرمایا۔تو مسیح ابن اللہ کہلایا۔ذاتا وہ ایک ہی ہے۔تو یہ بڑی سخت نا فہمی اور غلطی ہوگی۔کیوں ؟ عیسائی خدا کو بے حد اور بے انت مانتے ہیں۔اور اُسے ہر جگہ موجود یقین کرتے ہیں۔جب اللہ تعالٰی بیحد ہر جگہ ہے تو وہ صرف محمد ود رحیم مریم میں کیونکر سمایا۔جب وہ محیط کل ہو محدود تو جسمانی محدود نے اُس کا کیسے احاطہ کیا۔اگر ابن مریم با اعتبار مظہر او بیت ہونے کے ابن الله اور آلہ مجسم ہے۔تو پھر کیوں تمام مخلوق منظر نہیں ہو سکتی ار کیوں ابن اللہ اور آلہ جسم مانی نہیں جاتی میسی کھاتا پیتا لڑکی سے تین ہی نہیں کی تحریک پہنچا جو کھانے پینے کا محتاج ہوا۔وہ تمام مخلوق کا محتاج ہوا۔پانی۔ہوا۔چاند سورج مئی۔نباتات جمادات سب کی ضرورت اُسے لاحق ہوئی جب محتاج بنا تو خدا صفات کاملہ کا منصف نہ رہا۔پھر عیسائی کہتے ہیں۔یہود کے ہاتھ سے پٹا اوران کے مشھوں میں اُڑایا گیا۔آخرایلی ایلی پکارتے جان دی۔یہ عذاب اور پھر جامع صفات کا ملہ اور الوہیت کا مستحق۔عیسائیو۔جب نظروں سے غائب تھا۔اس نے سب کچھ بنایا۔نیر کے وعظ پیکان نہ رکھنے والوں پر موسی کے مخالفوں پر پانی پھیر دیا۔جب مجسم سوکر ظاہر ہوا۔پٹا۔مارکھائی انجیر کے پیڑ کے پاس بھوکا پہنچا۔پر اس نے پھل نہ دیا۔کیا نظروں سے پوشیدہ رہنا اُس کے لئے بہتر نہ تھا ؟ ظاہر ہو کر کیا گیا۔بعض عیسائی شتر مرغ کا طرز اختیار کر کے کہتے ہیں یہ نقائص بلحاظ انسانیت ہیں