فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 30
اور عظمت انہی کے بنانے کا حکم ہوتا ہے۔آپ نے (صلعم) اصول اسلام میں پہلی اصل یہ قرار دی ہے۔شہادت آن لا إله إلا الله اور یہی اقرار اور اسپر یقین اور اسپر عملدر آمد آپکے تمام اصولوں کی اصل ہوا اور اس فقرے کا مطلب یہ ہے۔کامل یقین سے گواہی دینا تمام صفات کا طہ کا موصوف اور تمام برائیوں سے پاک اور نچا اور واقعی معبود صرف ایک ہی ہے جس کا نام اللہ ہو۔اس کے سواد و سر کوئی بھی نہیں۔اسی واسطے قرآن شریف میں کلمہ اللہ کو ہر جگہ موصوف کیا ہے اور نیز کہا ہے۔މވ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ السَّمِيعُ البَصِير - سورة حمعسق - سیپاره ۲۵ رکوع ۱۳ فاعلم أنه لا إله إلا الله - سورة محمد - سیپاره ۲۶ - خدا کی عبادت ایسے طور سے کیجاوے کہ کوئی چیز خدا کے سوا دل ہیں، زبان میں سرکات میں۔سکنات ہیں۔معبود نہ ہے۔قرآن مجید فرماتا ہے۔واعبدوا الله ولا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا سُوره نساء - سیپاره -٥ - ما أمر و الالا ليعبدوا الله مخلصين له الدين حتفاء سوره لم یکن سیاره یہودی اور عیسائی اس اسلامی اصل کا بظا ہرا اقرار کرتے ہیں۔اور سب کتب مقدسہ خود اسلام کے مخالف نہیں کیونکہ ان کے یہاں بھی شروع کا بڑا اور پہلا حکم یہی ہو کہ خداوند کو بو تیرا خدا ہے۔اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان۔اور اپنی ساری سمجھ سے پیار کر۔رمتی ۲۲ باب ۳۷ - استثناء ۶ باب ۵) فائدہ۔خلوص کا لفظ اور لاتشرک کا لفظ اس سارے سارے ساری کہنے سے انے اس کے مانند کوئی نہیں اور وہ ہے سنتا دیکھتا ۱۲ کے سو تو جان رکھے کسی کی بندگی نہیں سوائے اللہ کے با س اور بندگی کرو اللہ کی۔اور مت ملاؤ ساتھ اُس کے کسی کو یا ہے اور انہیں حکم کئے گئے۔گریہ کہ عبادت کریںاللہ کی خالص اسکے واسطے بندگی ایک طاقت ہو کر یا ابراہیم کی راوپر)